ناشکری کا فتنہ
الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۲۶
نہیں رہے ہیں اس لیے زکوٰۃ و صدقات کے احکام اب منسوخ قرار پاگئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پچھلے چودہ سو برس کے دوران ہر زمانہ میں اور ہر ملک میں مسلم معاشرہ کا اقتصادی اعتبار سے وہی حال رہا ہے جو آج ہندوستان میں پایا جاتا ہے۔ مگر اسلامی تاریخ کی طویل مدت میں کبھی علمائے اسلام نے یہ اعلان نہیں کیا کہ مسلمان ایک پس ماندہ ملت بن چکے ہیں۔ یہ بدعت پہلی بار ہندوستان کے نام نہاد رہنماؤں نے نکالی ہے اور اس کی حقیقت ایک سطحی سیاست کے سوا اور کچھ نہیں۔
آج کی دنیا میں ۵۷ مسلم ممالک ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جہاں خود مسلمانوں کی اپنی حکومت قائم ہے۔ لیکن ہر جگہ وہی اقتصادی فرق پایا جاتا ہے جو ہندوستان میں موجود ہے۔ حتیٰ کہ اسلام کی چودہ سوسالہ تاریخ میں ہر دور میں اور ہر ملک میں یہ فرق موجود رہا۔ اس فرق کو مٹانا سرے سے ممکن نہیں۔ نئی دہلی کے مذکورہ ڈسکشن میں میں نے مزید کہا کہ ’’غریبی‘‘ کوئی برائی نہیں، غریبی ایک چیلنج ہے اور چیلنج ہی واحد چیز ہے جس کے ذریعہ تمام ترقیات ظہور میں آتی ہیں۔ چیلنج نہیں تو ترقی بھی نہیں۔ میں نے کہا کہ بڑی کامیابی حاصل کرنے والے تمام لوگ غریب خاندانوں میں پیدا ہوئے۔ کوئی سپر اچیور (super achiever) کبھی کسی بل گیٹ (Bill Gate) کے محل میں پیدا نہیں ہوا۔ ہمارے ملک میں جواہر لال نہرو کو چھوڑ کر تمام لیڈر غریب فیملی ہی میں پیدا ہوئے۔ اس کی ایک زندہ مثال صدر جمہوریہ ڈاکٹر عبدالکلام ہیں۔
اوپر میں نے مسلم دانشوروں کے بارے میں جس تجربہ کا ذکر کیا، وہ کوئی ایک تجربہ نہیں۔ ملک کے باہر اور ملک کے اندر ہر جگہ میں نے مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ سے اسی قسم کی بات سنی ہے۔ مسلمانوں کے اخبارات اور میگزین، مسلمانوں کے جلسے، مسلمانوں کی کتابیں، غرض ہر جگہ پسماندگی کی اسی مفروضہ کہانی کو دہرایا جارہا ہے۔ ہر مسلم زبان اور ہر مسلم قلم یکساں طور پر مسلمانوں کی مظلومی اور پسماندگی کے خلاف شکایت اور احتجاج میں مشغول ہے۔
میں نے اس مسئلہ پر بہت زیادہ غور کیا۔ میں نے جاننا چاہا کہ آخر ایسا کیوں ہے۔ اس معاملہ کا