Al-Risala · May 2005 · page 28

ناشکری کا فتنہ

الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۲۸

بنیاد طور پر غلط فہمی میں ڈال دیتا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ ایک ایسے واقعہ کو سمجھنے سے بھی قاصر رہتے ہیں جو ان کے قدموں کے نیچے موجود ہو۔

مثال کے طور پر دہلی میں ایک بار میری ملاقات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے ہوئی ۔ وہ ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے مگر آج وہ دہلی میں ایک شاندار مکان میں رہتے ہیں۔ ان کے پاس موٹر کار اور دوسری جدید سہولیات موجود ہیں۔ اُن کے بچے مہنگی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مگر وہ بے تکان اس روایتی قول کو دہرارہے تھے کہ ہندوستان کے مسلمان اقتصادی اعتبار سے بدحالی کا شکار ہو رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ بھی تو ایک ہندوستانی مسلمان ہیں۔ مگر آپ راجدھانی میں ایک خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر آپ اپنے ذاتی تجربہ سے سبق کیوں نہیں لیتے ۔

پھر میں نے کہا کہ دہلی کا ہمدرد دواخانہ ۱۹۴۷ میں کرایہ کے ایک معمولی مکان میں تھا ۔ مگر آج ہمدرد دواخانہ ایک ایمپائر بن چکا ہے ۔ انہوں نے فوراً کہا کہ آپ ہمدرد دواخانہ کا تقابل ڈابر کمپنی سے کیوں نہیں کرتے جو ہمدرد دواخانہ کے مقابلہ میں بہت زیادہ ترقی کر چکا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ ایک غیر منطقی بات کر رہے ہیں ۔ کیوں کہ آپ حضرات کا یہ کہنا ہے کہ ۱۹۴۷ کے بعد انڈیا کی حکومت نے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا اس لیے وہ بدحالی کے شکار ہو گئے ۔ اس لیے اصل سوال کی نسبت سے ہم کو مسلمانوں کی ۱۹۴۷ کی اپنی حالت کا مقابلہ آج کے مسلمانوں کی اپنی حالت سے کرنا ہوگا اس پر وہ خاموش ہو گئے۔

اصل یہ ہے کہ یہ سارا معاملہ کسی دوسرے کے ظلم کا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے اپنے غلط مزاج کا ہے اور وہ مزاج ناشکری کا مزاج ہے۔ اسی مزاج کی بنا پر آج یہ حالت ہے کہ ہر مسلمان ناشکری کی زبان بول رہا ہے، خواہ وہ ایسی شاندار زندگی گزار رہا ہو جس کا اس کے باپ دادا نے تصور بھی نہیں کیا تھا ۔

مثال کے طور پر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بڑی بڑی جماعتیں اور ادارے قائم ہوئے ہیں۔ مگر کسی بھی جماعت یا ادارہ میں شکر خداوندی کا چر چا نہیں ۔ مثال کے طور پر تبلیغی جماعت میں تعلیم

‹ Previous page Next page › Contents of May 2005 All issues

Printed page