Al-Risala · May 2005 · page 27

ناشکری کا فتنہ

الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۲۷

سب سے زیادہ عجیب پہلو یہ ہے کہ جو مسلم عالم یا دانشور مسلمانوں کی بدحالی پر لکھتے یا بولتے ہیں وہ خود تقریباً بلا استثناء ایک خوش حال زندگی گزار رہے ہیں۔ کم از کم میں نے اپنی لمبی عمر میں جس شخص کو بھی مسلمانوں کے مسائل پر لکھتے یا بولتے ہوئے دیکھا وہ اس کی مثال تھا۔ یعنی وہ اپنے باپ دادا کے زمانہ کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ بہتر زندگی گزار رہا تھا۔ اس کے باوجود وہ مسلمانوں کی مفروضہ حالت پر مرثیہ خوانی کر رہا تھا۔

ایک بار میں نے دیکھا کہ ہندوستان کے ایک نوجوان عالم ایک عرب ملک میں گئے ۔ وہاں انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان کے مسلمان چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں (مسلموا الھند بین فکی الرحی) یہ مسلمان عالم ماشاء اللہ فربہ جسم کے تھے۔ ان کے لباس اور ان کے چہرہ پر خوش حالی نمایاں تھی ۔ ان کے لہجہ میں بھی سکون اور اعتماد جھلک رہا تھا۔ میں نے کہا کہ میرے بھائی، آپ بھی تو ایک ہندوستانی شہری ہیں پھر کیسے آپ اس عام تباہی سے بچ گئے اور اگر آپ کے پاس ایسا کوئی نسخہ ہے جس کے ذریعہ آدمی تباہی کی عمومی حالت میں بھی شاندار زندگی حاصل کر سکے تو آپ بر بادی کی داستان بتانے کے بجائے مسلمانوں کو یہی ذاتی نسخہ بتائیے۔ غوروفکر کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان ہر زمانہ میں ایک عمومی فتنہ برپا کرتا ہے۔ کسی انسان کا سب سے بڑا ٹسٹ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس عمومی فتنہ سے اپنے آپ کو بچا سکے۔

میرے نزدیک قدیم زمانہ کا فتنہ شرک تھا۔ اس زمانہ میں شیطان نے فکر وعمل کے تمام نقشوں کو اسی طرح شرک کے رنگ میں رنگ دیا تھا کہ ہر عورت اور مرد اس کے اثر میں آگئے ۔ ہر ایک نے مشرکانہ کلچر کو اختیار کر لیا ۔ یہ صورت حال جاری رہی، یہاں تک کہ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔

مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کا فتنہ ناشکری کا فتنہ ہے جو یقینی طور پر شیطان کا پیدا کردہ ہے۔ شیطان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ حالات کا غلط مطالعہ کراتا ہے اور اس طرح لوگوں کو بے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2005 All issues

Printed page