Al-Risala · May 2005 · page 30

یہ نمبر موجود نہیں

الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۳۰

یہ نمبر موجود نہیں

آپ اگر اپنے ٹیلی فون پر کسی شخص کا نمبر ڈائل کریں اور کوئی غلط بٹن دب جائے تو آپ کی کال مطلوب شخص تک نہیں پہنچے گی۔ آپ کو دوسری طرف سے ہیلو کی آواز نہیں آئے گی بلکہ کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے تحت یہ ہوگا کہ ٹیلی فون اپیچ سے ریکارڈ کی ہوئی آواز سنائی دے گی۔ ۱۳ اکتوبر ۲۰۰۴ کو میرے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ میں نے اپنے ٹیلی فون پر دہلی کے ایک صاحب کا نمبر ڈائل کیا۔ دوسری طرف سے یہ آواز سنائی دی ۔ یہ نمبر موجود نہیں ہے :

This number does not exist

کسیچ کی یہ آواز سن کر اچانک میرے ذہن میں خیالات کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ اس مادی واقعہ میں ایک بہت بڑا روحانی سبق موجود ہے۔ وہ یہ کہ اگر کوئی انسان خدا سے ربط قائم کرنا چاہے اور وہ اپنے غلط ذہن کی بنا پر خدا کے سوا کسی اور کو اپنا خدا سمجھ بیٹھے اور خدا سمجھ کر اس کو پکارنے لگے تو اس کے ساتھ بھی یہی ہوگا کہ براہِ راست خدا کی طرف سے تو اس کو کوئی جواب نہیں ملے گا۔ البتہ ایک اور آواز اس کو سنائی دے گی جو اس سے کہہ رہی ہوگی کہ تم نے جس خدا کو پکارا ہے وہ خدا سرے سے موجود نہیں :

This God does not exist

خدا کی طلب انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ ہر انسان پیدائشی طور پر خدا کو پانا چاہتا ہے۔ مگر تاریخ میں ہمیشہ یہ ہوا ہے کہ لوگوں نے وہ غلطی کی جس کو شرک کہا جاتا ہے۔ حقیقی خدا کو پا لینے کا نام توحید ہے اور حقیقی خدا کے سوا دوسری چیز کو خدا کا درجہ دے کر اس سے قلبی تعلق قائم کرنا شرک ہے۔ حقیقی خدا سے رشتہ قائم ہونا انسان کے لیے سب سے بڑی رحمت ہے۔ جس عورت یا مرد کا رشتہ خدا کے ساتھ قائم ہو جائے اس کی زندگی میں ہدایت کا نور آ جائے گا۔ اس کے اندر ربانی شخصیت پیدا ہوگی۔ اس کو ذہنی ارتقاء کا اعلیٰ درجہ حاصل ہوگا۔ اس کے برعکس جو شخص شرک میں مبتلا ہو وہ اندھیروں میں بھٹکتا رہے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2005 All issues

Printed page