This God does not exist
الرسالہ، مئی ۲۰۰۵، صفحہ ۳۱
موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی خدا کا نام لیتا ہے۔ ہر آدمی کسی نہ کسی چیز کو خدا کا درجہ دے کر اس کو اپنا لیتا ہے۔ مگر جہاں تک خدا کی رحمت اور ربانی شخصیت کا تعلق ہے، اس کا کہیں وجود نہیں۔ اس کا سبب واضح طور پر یہی ہے کہ لوگ غیر خداؤں کو اپنا خدا بنائے ہوئے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی غیر خدا کو ٹیلی فون کر رہے ہیں۔ مگر جواب میں ہر ایک کے پاس یہ آواز آرہی ہے کہ جو نمبر تم نے ڈائل کیا ہے وہ نمبر موجود نہیں، جس کو تم خدا سمجھ کر پکار رہے ہو اس خدا کا کہیں وجود ہی نہیں، اس لیے تم کو اس کی طرف سے کوئی جواب بھی ملنے والا نہیں۔
یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:
سچا پکارنا صرف خدا کے لیے ہے۔ اور اس کے سوا جن کو لوگ پکارتے ہیں وہ ان کی اس سے زیادہ دادرسی نہیں کر سکتے جتنا پانی اس شخص کی کرتا ہے جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہوتا کہ وہ اس کے منھ تک پہنچ جائے اور وہ اس کے منھ تک پہنچنے والا نہیں۔ اور منکرین کی پکار سب بے فائدہ ہے (الرعد ۱۴)
ہر آدمی کی یہ پہلی ذمہ داری ہے کہ وہ حقیقی خدا کو دریافت کرے اور پھر یہ معلوم کرے کہ اس خدا سے ربط قائم کرنے کا ذریعہ کیا ہے۔ اس دریافت کے بغیر انسانی زندگی نہ صرف نامکمل ہے بلکہ وہ یقینی طور پر تباہی کے انجام سے دوچار ہونے والی ہے۔ یہی کسی انسان کا سب سے بڑا مقصد ہے، یہی انسان کی جدوجہد کا سب سے بڑا نشانہ ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو انسانی زندگی کو بامعنی بناتی ہے۔ جس انسان کی زندگی اس دریافت سے خالی ہو وہ بلاشبہ سب سے بڑا مفلس ہے، خواہ بظاہر اس نے مادی چیزوں کا ڈھیر اپنے گرد اکٹھا کر لیا ہو۔
مزید سنگین بات یہ ہے کہ کسی انسان کو یہ موقع صرف قبل از موت مدت حیات میں ملتا ہے۔ بعد از موت کی مدت حیات میں کسی انسان کو یہ موقع ملنے والا نہیں۔ انسان کے لیے اُس کے خالق کا بنایا ہوا قانون یہ ہے۔ -- موت سے پہلے کی زندگی میں کرنا، اور موت کے بعد کی زندگی میں صرف بھگتنا۔