Al-Risala · June 2005 · page 3

امنِ عالم

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۳

یہ کلمہ خدا کی جس دوسری صفت کو یاد دلاتا ہے وہ اس کا شفیق اور مہربان ہونا ہے۔ کلمہ کا یہ دوسرا جزء ہمارے لیے امید کا سر چشمہ ہے۔ یہ ہم کو یقین دلاتا ہے کہ جس خدا کو ہم نے اپنا خدا بنایا ہے وہ ہمارے لیے ماں اور باپ سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ وہ ہماری پکار کو سنے گا اور ہماری لغزشوں کو معاف کرتے ہوئے ہم کو اپنی مدد پہنچاتا رہے گا۔

حدیث میں آیا ہے کہ: کل امر ذی بال لم يبدأ فيه بسم الله الرحمن الرحيم اقطع (ہر اہم کام جو بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر شروع نہ کیا جائے وہ کٹا ہوا ہے) یعنی ایسا کام اپنی جڑ سے کٹا ہوا ہے۔ اس کا مطلب صرف کلمہ کا تلفظ نہیں ہے بلکہ کلمہ کی اسپرٹ ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کی حیثیت صرف کلمہ آغاز کی نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت پورے عمل میں کارفرما اسپرٹ کی ہے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے میں نے ایک قصہ سنایا۔ میں نے کہا کہ بحری جہاز رانی کے دور میں ایک بحری جہاز امریکہ کے ساحل سے افریقہ کے لیے روانہ ہوا۔ جہاز جب اٹلانٹک سمندر کے درمیان پہنچا تو سخت طوفان آگیا۔ جہاز تیزی سے ہلنے لگا۔ تمام مسافر پریشان ہو گئے۔ ایک مسافر گھبراہٹ میں ادھر سے ادھر چل رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ جہاز کے ایک گوشہ میں ایک بچی بے فکر ہو کر اپنے کھلونے سے کھیل رہی ہے۔ مسافر نے بچی سے کہا کہ کیا تم کو پتہ نہیں کہ سمندر میں طوفان آگیا ہے اور جہاز ڈوبنے والا ہے۔ بچی نے نہایت اطمینان کے ساتھ جواب دیا: تم جانتے ہو کہ اس جہاز کا کپتان میرا باپ ہے۔ وہ کبھی اس کو ڈوبنے نہیں دے گا۔

You know, my father is the captain of this ship. He is not going to let it sink. میں نے کہا کہ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانہ پر ایک مومن کا ہوتا ہے۔ مومن جب کوئی کام شروع کرتے ہوئے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتا ہے تو اس کے لیے یہ کوئی سادہ بات نہیں ہوتی۔ یہ دراصل قادر مطلق خدا کے اوپر اپنے اتھاہ بھروسہ کا اظہار ہوتا ہے۔ گویا کہ مومن یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ میرے کام میں خدا میرا مددگار ہے، وہ کبھی میرے کام کو بگڑنے نہیں دے گا:

I begin my work with the conviction that most merciful and all powerful God is always at my side. He will never leave me alone.

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page