Al-Risala · June 2005 · page 4

امنِ عالم

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۴

اس کے بعد ہم نے مشترک طور پر یہ دعا پڑھی: اللهم أنت الصاحب في السفر وأنت الخليفة في الأهل ۔ میں نے کہا کہ اس کو پڑھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کچھ مقدس عربی الفاظ ہیں اور ان کو صحیح تلفظ کے ساتھ ادا کرنے کے بعد خود بخود کچھ پراسرار نتیجے ظاہر ہوں گے ۔ یہ کلمہ دراصل ایک عظیم حقیقت کو اپنے دماغ میں تازہ کرنے کے لیے ہے، یہ حقیقت کہ اس دنیا میں سارا اختیار صرف خدا کو حاصل ہے ۔ ہر کام اسی کی مدد سے انجام پاتا ہے۔ انسان ہر جگہ اسی کی مدد کا محتاج ہے۔ یہ بھی صرف ایک عقیدہ کی بات نہیں ۔ بلکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے جس کو ہمیں ہر لمحہ یاد رکھنا چاہئے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کے پاس صرف ایک چیز ہے اور وہ اس کا ارادہ ہے۔ اسی ارادہ کو واقعہ بنانے کے لیے ان گنت دوسرے عوامل (factors) درکار ہیں ۔ اور یہ سارے عوامل پوری طرح خدا کے ہاتھ میں ہیں۔

مثلاً ہمارے پاس آنکھ ہے مگر آنکھ سے دیکھنے کے لیے روشنی کی ضرورت ہے جو خدا کی طرف سے آتی ہے ۔ ہمارے پاس کان ہے مگر کان سے سننے کے لیے ہمیں ہوا کی ضرورت ہے جو خدا کے اختیار کی چیز ہے۔ ہم چلنا چاہتے ہیں مگر چلنے کے لیے زمینی کشش کی ضرورت ہے جس کا کنٹرول پوری طرح خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ ہم کو زندہ رہنے کے لیے پانی اور آکسیجن درکار ہے مگر پانی اور آکسیجن کی سپلائی خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ ان الفاظ کو زبان سے ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان حقیقتوں کو اپنے ذہن میں تازہ کیا جائے ۔ اسی کے ذریعہ بندہ اور خدا کے درمیان تعلق قائم ہوتا ہے اور خدا کی طرف سے بندہ کو وہ چیز ملتی ہے جس کو روحانی فیض کہا جاتا ہے۔

پھر جب ہماری گاڑی آگے بڑھی تو میں نے لوگوں کو ایک حدیث رسول سنائی۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: جددوا ایمانکم بقول لا اله الا الله (لا الہ الا اللہ کہہ کر اپنے ایمان کی تجدید کرو) اس حدیث میں ایک بہت اہم حقیقت بتائی گئی ہے۔ اس کو گہرائی کے ساتھ سمجھنا چاہیے ۔ میں نے کہا کہ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لا الہ الا اللہ کے الفاظ کو زبان سے دہراتے رہو۔ اس طرح کا مفہوم اس حدیث کی تقصیر ہے۔ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ توحید پر

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page