Al-Risala · June 2005 · page 6

It is a spiritual outing of a realized soul.

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۶

طائر الا ذکر نا منه علما (۵ / یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو چھوڑ اور آپ کا حال یہ تھا کہ کوئی چڑیا بھی اگر فضا میں حرکت کرتی تو آپ اس سے ہم کو ایک علم کی یاد دہانی کراتے ۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ تزکیہ کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا تھا۔ آپ یہ کرتے تھے کہ آس پاس کے واقعات میں نصیحت کے جو پہلو ہیں ان کو کھولتے اور اس طرح لوگوں کی ذہنی تربیت کرتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ نام ہے دنیاوی واقعات کو ربانی تجربات میں ڈھالنے کا: Converting worldly events into divine experience. میں نے کہا کہ ہمارا سفری کلاس تزکیہ کے اسی عمل کی ایک تو سیعی شکل ہے۔ اس کی اصل خود قرآن میں موجود ہے۔ قرآن میں مومن کی ایک صفت السائحون (التوبہ ۱۱۲) بتائی گئی ہے۔ ایک اور آیت میں کہا گیا ہے کہ زمین میں سیر کرو اور اپنے لیے عقل وبصیرت حاصل کرو (الحج ۴۶) اہل ایمان کے لیے سیاحت کی یہ صفت اتنی زیادہ اہم ہے کہ اس کو قرآن میں خواتین کی بھی مستقل صفت کے طور پر السائحات (التحریم (۵) کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے۔

قرآن میں جس سیر یا سیاحت کا ذکر ہے وہ عام معنوں میں ٹورزم (tourism) جیسی کوئی چیز نہیں ۔ یہ ایک خالص ربانی عمل ہے۔ اس کا مطلب ہے ۔ کسی صاحب معرفت کی ایک روحانی سیاحت :

It is a spiritual outing of a realized soul.

اس سلسلہ میں مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حال میں مجھے یورپ کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان کا خط ملا۔ انہوں نے الرسالہ کے ایک مضمون پر اعتراض کیا تھا۔ میں نے الرسالہ میں لکھا تھا کہ یہ دراصل دماغ ہے جو تمام افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔ قلب (دل) سوچ یا احساس کا مرکز نہیں ہے، وہ صرف خون کی گردش کو جاری رکھنے والا ایک پمپنگ آرگن ہے۔ انہوں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے دو باتیں لکھی تھیں ۔

ایک یہ کہ قرآن میں قلب کو سوچ اور فکر کا مرکز بتایا گیا ہے۔ اکثر لوگ یہ بات کہتے ہیں۔ مگر یہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page