It is a spiritual outing of a realized soul.
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۷
درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ قرآن انسانی زبان میں اتارا گیا ہے اور دنیا کی تمام زبانوں میں پچھلے ہزاروں سال کے نتیجہ میں ایک ادبی اسلوب رائج ہو گیا ہے۔ اسی اسلوب کو قرآن میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو کلام کی تاثیر ختم ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر مغربی تعلیم یافتہ لوگ، جدید سائنسی تحقیقات کی بنا پر یہ مانتے ہیں کہ قلب صرف گردش خون کا آلہ ہے۔ مگر یہی لوگ جب بولتے یا لکھتے ہیں تو وہ ہول ہارٹڈلی (wholeheartedly) کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے وہ ہول مائنڈ ڈلی (wholemindedly) کا لفظ استعمال نہیں کرتے۔ یہ معاملہ صرف قلب کا نہیں ہے۔ قرآن میں دوسری بہت سی آیتیں ہیں جن میں کسی لفظ کو اس کے ادبی استعمال کے اعتبار سے اختیار کیا گیا ہے نہ کہ سائنسی دریافت کے اعتبار سے۔ مثلاً قرآن میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ ان کے پاس کان ہیں ، مگر وہ نہیں سنتے۔ ان کے پاس آنکھ ہیں ، مگر وہ نہیں دیکھتے (الاعراف ۱۷۹)
اس طرح کی آیتوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود کان اور خود آنکھ کے اندر سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ سماعت اور بصارت کے الفاظ سوچ کے مفہوم میں استعمال نہیں ہوئے ہیں۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سنی ہوئی بات کو اپنے آپ سمجھ سکتے ہیں اور دیکھی ہوئی بات کو اپنے آپ جان سکتے ہیں۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ کان اور آنکھ کے اندر سوچنے اور سمجھنے کا مادہ نہیں۔ یہ دراصل دماغ ہے جو کان کے ذریعہ سنتا ہے اور آنکھ کے ذریعہ دیکھتا ہے۔ مگر یہاں دماغ کا حوالہ نہ دے کر صرف کان اور آنکھ کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیوں کہ انسانی ادب میں یہ الفاظ اسی طرح رائج ہو چکے تھے۔ اس کے بجائے اگر مذکورہ آیت میں یہ کہا جاتا کہ ان کا دماغ آنکھ کے ذریعہ دیکھی ہوئی باتوں کو سمجھتا نہیں اور ان کا دماغ کان کے ذریعہ سنی ہوئی باتوں پر سوچتا نہیں ، اگر بات کو اس طرح کہا جاتا تو اس کی تاثیر ختم ہو جاتی۔
اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں قرآن میں ہیں۔ مثلاً سورج کا غروب ہونا اور طلوع ہونا۔ حالاں کہ علمی تحقیق کے مطابق ، طلوع اور غروب دونوں ظاہری مشاہدہ کی چیزیں ہیں۔ طلوع اور
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues