Al-Risala · June 2005 · page 39

Anil visits Tirupati with wife and sons.

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۳۹

لیکن ہر جگہ وہ بہت مشکل سے مہورت کے وقت پہنچ سکے تھے۔ اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا ایک انجینئر راہل سنگھ کو ہے جو جمنا پار کے علاقہ میں رہتا ہے۔ اس کے دو قریبی رشتہ داروں کے ہاں شادیاں دہلی شہر کے دو مختلف محلوں میں ہوں گی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ ٹریفک جام کی وجہ سے وہ ان تقریبوں میں کیسے شرکت کر سکے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ ان شادیوں میں نہ جائے۔ مختلف اندازوں کے مطابق، ہر شادی پر تقریباً دس لاکھ روپیہ خرچ آئے گا۔ اس طرح اتوار کے روز چودہ ہزار شادیوں پر کل چودہ ارب روپیہ خرچ ہوں گے۔ “ (صفحہ ۱)

دہلی سے سہارنپور کا فاصلہ ۱۶۵ کلومیٹر ہے۔ جاتے ہوئے ہم لوگ دہلی سے صبح ۸ بجے روانہ ہوئے تھے۔ مگر سہارنپور پہنچے تو گھڑی میں ڈیڑھ بج چکے تھے۔ یہی صورتِ مزید اضافہ کے ساتھ واپسی میں بھی پیش آئی۔ مختصر سفر میں اتنا زیادہ وقت اس لیے لگا کہ سڑک شروع سے آخر تک بہت خراب تھی۔ ہماری گاڑی مسلسل ہچکولوں کے درمیان چل رہی تھی۔ میرے سر میں درد ہونے لگا۔ ایک دیش بھکت شاعر کا شعر ہے: میرے دیش کی دھرتی سونا اگلے، اگلے ہیرے موتی۔

یہ شعر مجھے یاد آیا اور پھر اپنے موجودہ تجربہ کو سامنے رکھتے ہوئے اس کو میں نے اس طرح مکمل کیا:

میرے دیش کی دھرتی سونا اگلے، اگلے ہیرے موتی میرے دیش کے لیڈر کانٹا بوئیں، بوئیں ٹوٹی سڑکیں ۲۸ نومبر کی رات کو میں دہلی واپس آگیا۔ ۲۹ نومبر کی صبح کو ایک صاحب ملنے کے لیے آئے۔ یہ بھگوان تھے جو ہماری اس کرایہ کی گاڑی کے ڈرائیور تھے۔ جس کے ذریعہ ہم لوگ دہلی سے سہارن پور گئے اور سہارن پور سے دہلی واپس آئے۔ جے بھگوان نے کہا کہ سہارنپور میں آپ کے بھاشن میں نے سنے تھے۔ ان سے میں بہت پر بھاوت ہوا تھا۔ آپ اپنی ہندی کی کچھ پستک پڑھنے کے لیے مجھے دیجیے ۔ تاکہ میں اور زیادہ جانکاری لے سکوں۔ چنانچہ ان کو ہندی کی دو کتابیں دی گئیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page