Anil visits Tirupati with wife and sons.
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۳۸
نے کئی دوائیں استعمال کیں مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ عجیب بات ہے کہ مجھے کسی دوسرے سفر میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ پیدل کا سفر، بیل گاڑی کا سفر، گھوڑے گاڑی کا سفر، کشتی کا سفر، ریل کا سفر، جہاز کا سفر، غرض کسی بھی دوسرے سفر میں مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ مگر کار خواہ وہ کتنی ہی اچھی ہو، اس سے میرے سر میں چکر آنے لگتا ہے۔
چیتل گرانڈ میں کچھ دیر قیام کے بعد ہم لوگ آگے کے لیے روانہ ہوئے ۔ غازی آباد کے پاس پہنچ کر سڑک پر بھیڑ بہت بڑھ گئی۔ ہر طرف بس کاریں ہی کاریں دکھائی دے رہی تھیں ۔ چنانچہ یہ سفر تقریبا رینگتے ہوئے طے ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ہندو عقیدہ کے مطابق آج مبارک دن تھا۔ لوگوں نے بڑی تعداد میں شادیاں کیں تاکہ ان کی شادی با برکت رہے۔ روزنامہ اخبار مشرق (۲۸ نومبر ۲۰۰۴) میں اس واقعہ کی خبر حسب ذیل الفاظ میں درج تھی :
"شادیوں کے اس موسم میں جب دہلی کے چودہ ہزار جوڑے یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ سب سے زیادہ مبارک دن پر شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے تو پھر یہ ایک قدرتی بات ہے کہ پنڈتوں، ہوٹلوں کے مالکوں، کھانے بنانے والوں اور پھول اور گلدستے فراہم کرنے والوں کی خدمات بہت مہنگی ہو جائیں گی۔ لیکن دہلی کے بھیڑ بھاڑ اور ٹریفک جام کے مدنظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پنڈت، بارات یا مہمان مقررہ وقت پر مقررہ جگہ پر نہیں پہنچ سکے تو پھر کیا ہو گا۔ ۲۸ نومبر شادیوں کے لیے سب سے مبارک دن مانا گیا ہے۔ اسی لیے اس ایک دن میں شادیوں کی اتنی تقریبات ہو رہی ہیں کہ اگر کوئی شخص اس دن ایک سے زیادہ شادیوں میں شرکت کرنا چاہتا ہے تو اس کو ٹریفک کی وجہ سے کافی بھاگ دوڑ کرنا پڑے گی۔ لیکن اگر ٹریفک جام ہوا تو یہ دوڑ بیکار ثابت ہوگی اور بندھن کی نیک ساعت گزر جائے گی۔ پنڈت رگھو ناتھ شاستری کو دہلی کے مختلف علاقوں میں تین شادیوں میں مذہبی فرائض انجام دینے ہیں۔ انہیں اس بات کی بہت فکر ہے کہ کیا وہ تین جگہوں پر وقت پر پہنچ سکیں گے یا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال بھی انہوں نے تین جوڑوں کو شادی کے بندھن میں باندھا تھا
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues