خدا کے گواہ
الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۴۱
نہیں ہوتا بلکہ وہ خدا کے فیصلے پر راضی رہ کر اپنے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ ایسا شخص قیامت میں خدائی گواہ بنے گا۔ جو لوگ مصیبتوں کا نام لے کر مایوسی اور بے اعتمادی کا شکار ہوئے، خدا ان سے کہے گا کہ میرے اس بندے کو دیکھو، وہ بھی تمہاری طرح مصیبتوں میں مبتلا ہوا۔ مگر اُس نے ہر مصیبت کا سامنا مثبت نفسیات کے ساتھ کیا۔ اُس نے اپنے اندر منفی نفسیات کی پرورش نہیں ہونے دی۔
اس گواہی کا تعلق زندگی کے ہر معاملہ سے ہے۔ اس کا تعلق ہر اُس صورت حال سے ہے جس کو لے کر لوگ سچائی سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ وہ یا تو کنفیوژن کا شکار ہوتے ہیں یا سچائی کا انکار کر دیتے ہیں۔ ایسی حالت میں خدا کا جو بندہ ان حالات سے دوچار ہو۔ مگر وہ اپنے آپ کو منفی احساس سے بچائے۔ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ اُس کے یقین کو متزلزل نہ کرے۔ وہ دنیا میں خدا کے گواہ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ قیامت کے دن خدائی گواہ (witness of God) کے طور پر کھڑا کیا جائے گا۔ وہ اپنے عمل سے عذرات لنگ کی تردید بن جائے۔ خدا لوگوں سے کہے گا کہ جن باتوں کو لے کر تم بدگمانی اور شک اور انکار میں مبتلا ہوئے وہ سب کچھ میرے اس بندہ کے ساتھ بھی دنیا میں پیش آیا۔ مگر کوئی بھی ناپسندیدہ تجربہ اس کو سچائی کے راستہ سے نہ ہٹا سکا۔
ایسے شاہدین آخرت میں پیغمبروں کے ساتھ جگہ پائیں گے۔ وہ اس بات کی عملی مثال بن جائیں گے کہ دنیا میں لوگ جن شبہات کے حوالہ سے سچائی کو اختیار نہ کر سکے وہ سب بے بنیاد عذرات تھے۔ خدا ایسے لوگوں کے عذرات کو قبول نہیں کرے گا۔ اُن کے حق میں سزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔ خدا کی عدالت میں وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں قرار پائیں گے۔ جب کہ مذکورہ قسم کے گواہ جنت کے ابدی انعامات سے سرفراز کیے جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues