Al-Risala · June 2005 · page 42

انسان کی منزل

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۴۲

انسان کی منزل

ڈاکٹر الکس کیرل ۱۸۷۳ میں فرانس میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ سائنسی تعلیم کے بعد انہوں نے اپنے کیریر کا بیشتر حصہ امریکہ میں گزارا۔ ۱۹۱۲ میں ان کو میڈیسن کا نوبل پرائز ملا۔ ۱۹۴۴ میں ان کا انتقال ہوا اور فرانس میں ان کے وطن میں ان کی تدفین ہوئی۔

ڈاکٹر الکس کیرل کی ایک کتاب ۱۹۳۵ میں انسان نامعلوم (Man The Unknown) کے نام سے چھپی۔ یہ کتاب بہت مقبول ہوئی۔ مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے شائع ہوئے۔ اس کتاب کے بارے میں اس کے ایک تبصرہ نگار نے درست طور پر لکھا ہے کہ: یہ کتاب خالص سائنسی اعتبار سے انسان اور اس کی زندگی کے بارے میں مصنف کے تجربات کا خلاصہ پیش کرتی ہے۔ This book sums up much of his experience of man and his life seen from the purely scientific aspect. ۳۱۲ صفحہ کی اس کتاب میں ڈاکٹر الکس کیرل انسانی زندگی کی حقیقت معلوم کرنے میں ناکام رہے۔ چنانچہ اپنی اس کتاب کا ٹائٹل انہوں نے ان الفاظ میں مقرر کیا ہے: انسان نامعلوم (Man The Unknown)

اس کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جہاں تک انسان بحیثیت ایک سائنسی وجود کا معاملہ ہے اس کو ڈاکٹر الکس کیرل بڑی حد تک دریافت کر چکے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی کتاب کا نام انسان نامعلوم کیوں رکھا۔ ایسا ایک کنفیوزن کی بنا پر ہوا۔ الکس کیرل نے "انسان" کو تو معلوم کر لیا تھا مگر ان کا مطالعہ ان کو یہ نہ بتا سکا کہ اس انسان کی منزل کیا ہے۔ ان کو محسوس ہوا کہ ایک معلوم انسان ایک غیر معلوم منزل کی دنیا میں جی رہا ہے۔ اور یہی ان کی عدم معرفت کا اصل سبب ہے۔ اس اعتبار سے کتاب کا زیادہ صحیح ٹائٹل یہ ہوگا: نامعلوم منزل (Goal The Unknown) یہ صرف ڈاکٹر الکس کیرل کا مسئلہ نہیں۔ یہی تمام فلاسفہ اور مفکرین کا مسئلہ ہے۔ انسان

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page