اسپین کا سفر
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵
مگر مسلم علماء اور دانشوروں میں یہ تاریخی تصور کبھی رائج نہ ہوسکا۔ اسی طرزِ فکر کا نتیجہ ہے کہ موجودہ مسلمان یہ دریافت نہ کر سرکے کہ آج وہ قدیم مسلم حکومت کے دور کے مقابلہ میں ہر اعتبار سے زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ حتیٰ کہ سیاست کے اعتبار سے بھی۔
ایرپورٹ پہنچا تو مسافروں کی بھیڑ دکھائی دی۔ اس کو دیکھ کر بظاہر کوئی شخص یہ رائے قائم کرے گا کہ انڈیا میں ہوائی جہاز کا سفر بہت بڑھ گیا ہے۔ حالاں کہ اسی ایرپورٹ پر اگر کوئی شخص دن کے وقت آئے تو اس کو یہاں سناٹا دکھائی دے گا۔ جب کہ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ وہاں دن کے اوقات میں مسافروں کی بھیڑ ہوتی ہے اور رات کے وقت سناٹے کا عالم ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مغربی ملکوں کے لوگ ہوائی جہازوں کے شور سے اپنی نیند کو خراب کرنا گوارا نہیں کرتے۔ اس لیے انہوں نے اپنے ائرپورٹ پر نائٹ کرفیو (night curfew) لگا رکھا ہے۔ انڈیا جیسے غیر ترقی یافتہ ملک اس کی قیمت اس طرح ادا کرتے ہیں کہ ان کے یہاں بین الاقوامی پروازیں زیادہ تر رات کو اترتی ہیں اور روانہ ہوتی ہیں۔
ائرپورٹ کے اندر ایک جگہ کاؤنٹر پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :
اسپیشل ہینڈلنگ (special handling)
یہ ونڈو ان لوگوں کے لیے تھی جو اپنی کسی معذوری کی بنا پر وہیٖل چیئر پر بٹھا کر جہاز تک لے جائے جاتے ہیں۔ گویا معذور لوگوں کے لیے خصوصی مدد کا انتظام ہے۔ اس دنیا میں معذوری بھی ایک پلس پوائنٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ سفر ترکش ائرلائنس کی فلائٹ نمبر 1071 TK کے ذریعہ ہوا۔ دلی سے اس کا مقرر وقت ساڑھے ۴ بجے تھا۔ آدھا گھنٹہ لیٹ ہو کر جہاز ۵ بجے صبح دہلی سے روانہ ہوا۔ دہلی سے استنبول کا سفر بغیر کے ہوئے سات گھنٹہ کا تھا۔ راستہ میں نیند آتی رہی اور سفر آسانی کے ساتھ طے ہو گیا۔ پوری پرواز ہموار (smooth) تھی۔
راستہ میں ۱۲ دسمبر ۲۰۰۳ء کے بعض اخبارات دیکھے۔ ایک اخبار میں ایک آرٹیکل کے تحت
‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues