اسپین کا سفر
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۵
مشہور کوہ پیمائسر ایڈمنڈ ہیلری کا تذکرہ تھا۔ وہ کئی بار نا کام ہونے کے بعد مئی ۱۹۵۳ میں ہمالیہ کی چوٹی پر پہنچا تھا۔ ایک نا کامی کے بعد اس نے اپنی مٹھی بلند کی اور پہاڑ سے کہا: ’’تم نے مجھے ہرایا ہے مگر میں دوبارہ آؤں گا اور تم کو ہراؤں گا۔ کیوں کہ تم اور زیادہ بڑے نہیں ہو سکتے مگر میں ہو سکتا ہوں‘‘: You have defeated me but I will return and I will defeat you because you can not get any bigger but I can. دہلی سے سات گھنٹہ کی پرواز کے بعد جہاز استنبول کے ہوائی اڈہ پر اترا۔ یہ ہوائی اڈہ کافی اچھا بنا ہوا تھا۔ وہ ایک یورپی ہوائی اڈہ معلوم ہوتا تھا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دہلی کے انٹر نیشنل ائر پورٹ اور استنبول کے ائر پورٹ میں کوئی مقابلہ نہیں۔
استنبول کے شاندار ائر پورٹ پر میں نے دیکھا کہ وہاں کے طویل رن وے پر ایک کے بعد ایک جہازوں کی لائن لگی ہوئی ہے۔ یہاں ہر وقت یا تو کوئی جہاز اترتا ہے یا کوئی جہاز اڑ کر فضا میں داخل ہوتا ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ مسلمان سوسال سے ترکی کی عثماں خلافت کے خاتمہ پر سوگ منا رہے ہیں۔ شبلی نعمانی (وفات ۱۹۱۴) کا یہ شعر اس معاملہ میں مسلم نفسیات کی ترجمانی کرتا ہے:
زوال دولت عثمانی زوالِ شرع و ملت ہے عزیز و فکر فرزند وعیال و خانماں کب تک جب کہ حال یہ ہے کہ آج کا ترکی پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ ترقی کر چکا ہے۔ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ایک عظیم خدائی نعمت کا ظہور تھا۔ مگر اخبار اور کتاب دونوں کے ذریعہ پریس کا جو استعمال ہوا وہ ایسا تھا کہ اس نے مسلمانوں کو کھوئی ہوئی عظمت سے تو مبالغہ آمیز طور پر باخبر کیا مگر ملی عظمت سے ان کو بالکل بے خبر رکھا۔ چنانچہ مسلمان عظمت ماضی کے تصور میں اتنا زیادہ گم رہے کہ وہ حال کی عظمت سے بالکل بے خبر ہو گئے ۔
استنبول کا قدیم نام قسطنطنیہ (Constantinople) تھا۔ یہ ترکی کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ شہر پہلے باز نطینی ایمپائر کی راجدھانی تھا۔ اس کے بعد وہ عثمانی خلافت کی راجدھانی بنا۔ قدیم شہر کی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2005 All issues