Al-Risala · June 2005 · page 43

انسان کی منزل

الرسالہ، جون ۲۰۰۵، صفحہ ۴۳

بظاہر ان کے لیے ایک معلوم چیز تھی۔ مگر اس معلوم انسان کی منزل کیا ہے، وہ ان کے لیے آخری حد تک غیر معلوم رہی۔ انسان اور اس کی منزل کے درمیان یہی فکری خلا ہے جو ہزاروں سال سے انسان کو سرگرداں کئے ہوئے ہے۔ مگر آخر میں کنفیوژن کے سوا کسی کو کچھ نہیں ملا۔ یہ ایک لائف ڈیفائننگ (life defining) سوال ہے اور اس کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ اس کا تسلی بخش جواب دریافت کیا جائے۔ اصل یہ ہے کہ یہ فلسفہ اور مفکرین انسان کی منزل اسی آج کی دنیا میں ڈھونڈھ رہے ہیں۔ جب کہ آج کی دنیا میں وہ سرے سے موجود ہی نہیں۔ یہ دنیا ایک نامکمل دنیا ہے، جب کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک مکمل دنیا کا طالب ہے۔ انسان حیات ابدی چاہتا ہے، جب کہ قبل از موت کی اس دنیا میں حیات ابدی کسی کے لیے ممکن ہی نہیں۔ انسان مسرتوں کی دنیا چاہتا ہے مگر اس دنیا میں طرح طرح کے ناموافق حالات اس کے پر مسرت دنیا بننے میں لازمی رکاوٹ ہیں۔ انسان آئیڈیل دنیا چاہتا ہے مگر یہاں وہ ایک غیر آئیڈیل دنیا میں رہنے پر مجبور ہے۔ انسان پیدائشی طور پر پرفیکشنسٹ (perfectionist) ہے۔ وہ ایک پرفیکٹ ورلڈ چاہتا ہے مگر ساری کوششوں کے بعد وہ صرف یہ دریافت کرتا ہے کہ یہاں پرفیکٹ ورلڈ کا ملنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جو چیز غیر معلوم ہے وہ انسان نہیں ہے۔ غیر معلوم چیز دراصل انسان کی منزل ہے۔ دوسرے لفظوں میں، وہ دنیا جو انسان کے خوابوں کی تعبیر ہو، جو ہر قسم کے تضاد سے خالی ہو، جہاں انسان پورے فل فلمنٹ (fulfillment) کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جی سکے۔

یہ بظاہر نا قابلِ حل مسئلہ اس وقت واضح طور پر حل ہو جاتا ہے جب کہ انسان کا مطالعہ خدائی اسکیم کی روشنی میں کیا جائے۔ یعنی مخلوق کو سمجھنے کے ساتھ خالق کی منشا کو بھی سمجھا جائے۔ یہی اس معاملہ میں سائنٹفک طریقہ ہے۔ جب اس حیثیت سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارا مسئلہ صرف اس لیے ہے کہ خدا کے کریشن پلان (creation plan) کو سامنے رکھے بغیر انسان کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انسان ایک مخلوق ہے، وہ خود خالق نہیں، جس طرح مشین ایک مصنوع (make) ہے، وہ خود

‹ Previous page Next page › Contents of June 2005 All issues

Printed page