Al-Risala · July 2005 · page 23

زندگی کے دو طریقے

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۲۳

مسئلہ کا حل

اکثر لوگ منفی نفسیات میں جیتے ہیں۔ وہ مسائل کے حوالہ سے شکایت کرتے رہتے ہیں۔ وہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح کوئی ایسا نسخہ دریافت کرلیں جو مسائل کو ختم کرنے والا ہو۔ تاکہ انہیں سکون کی زندگی حاصل ہو سکے۔ یہ ذہن فطرت کے قانون کے خلاف ہے، اور جو چیز فطرت کے خلاف ہو وہ کبھی حاصل ہونے والی نہیں۔

مسائل زندگی کا حصہ ہیں، وہ کبھی ختم نہیں ہوتے۔ مسئلہ کا حل مسئلہ کے ساتھ جینا ہے، نہ کہ مسئلہ کو ختم کر کے بے مسئلہ زندگی حاصل کرنا۔ کوئی چیز اسی وقت تک مسئلہ نظر آتی ہے جب کہ اس کو مسئلہ سمجھا جائے۔ اگر مسئلہ کو زندگی کا لازمی حصہ سمجھ لیا جائے تو اس کے بعد مسئلہ معمول کی چیز بن جائے گا، وہ پریشان کن مسئلہ کی حیثیت سے باقی نہیں رہے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں بے مسئلہ زندگی اور با مسئلہ زندگی کے درمیان انتخاب نہیں ہے بلکہ یہاں انسان کے لیے صرف ایک ہی انتخاب ہے۔ اور وہ یہ کہ وہ با مسئلہ زندگی کو معمول کی چیز سمجھ کر اس پر راضی ہو جائے۔ مسئلہ کے بارے میں وہ اپنی منفی سوچ کو ختم کر دے۔

مسئلہ کیا ہے۔ مسئلہ در اصل اجتماعی زندگی کی قیمت ہے۔ انسان اکیلا نہیں رہ سکتا۔ وہ اپنی ساخت کے اعتبار سے مجبور ہے کہ اجتماعی زندگی گزارے اور جب بھی وہ اجتماعی زندگی میں رہے گا تو اس کے ساتھ مسائل بھی ضرور پیش آئیں گے۔ انفرادی زندگی بے مسئلہ زندگی ہو سکتی ہے۔ مگر انفرادی زندگی گزارنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ انسانی تقاضے صرف اجتماعی زندگی میں پورے ہو سکتے ہیں۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کو اجتماعی زندگی کے لازمی جزء کی حیثیت سے قبول کرے ۔ مسئلہ زندگی کی سرگرمیوں سے جڑا ہوا ہے۔ جہاں سرگرمیاں ہوں گی وہاں مسائل بھی لازمی طور پر پائے جائیں گے۔ مسئلہ کو مسئلہ نہ سمجھنا ہی مسئلہ کا واحد یقینی حل ہے۔ مسئلہ کا حل ہمیشہ آدمی کے ذہن میں ہوتا ہے نہ کہ اس کے باہر۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues

Printed page