Al-Risala · July 2005 · page 24

دو درجے

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۲۴

دو درجے

زندگی میں کامیابی کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے اوسط درجہ کی کامیابی۔ اور دوسرا ہے اعلیٰ درجہ کی کامیابی۔ اس دنیا میں دونوں ہی ممکن ہے۔ مگر دونوں کی شرطیں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے— چھوٹی کوشش چھوٹی کامیابی، بڑی کوشش بڑی کامیابی۔

جہاں تک چھوٹی کامیابی یا اوسط درجہ کی کامیابی کا معاملہ ہے وہ ہر شخص حاصل کر لیتا ہے۔ ہر آدمی کے حالات اس کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی اور اپنے گھر والوں کی ضرورت پورا کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرے۔ اس طرح ضرورت کے تقاضے کے تحت ہر آدمی کوئی نہ کوئی کام کر لیتا ہے۔ خواہ وہ سروس ہو یا کوئی آزاد تجارت۔

مگر بڑی کامیابی زیادہ بڑی کوشش سے ملتی ہے۔ بڑی کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر بڑی سوچ ہو۔ وہ زیادہ معلومات رکھتا ہو۔ وہ منصوبہ بندی کے اصول کو اختیار کرے۔ اس کے اندر بلند اخلاقی صفات ہوں۔ وہ صبر وتحمل کے ساتھ کام کرنا جانتا ہو۔ اس کے معاملات معلوم اصول کی بنیاد پر قائم ہوں۔ وہ لوگوں کے اندر بے ضرر اور نفع بخش بن کر رہے۔ اس دنیا میں ہر چیز کی ایک قیمت ہے۔ اسی طرح کامیابی کی بھی ایک قیمت ہے۔ جو شخص بڑی کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو جاننا چاہیے کہ بڑی کامیابی حاصل کرنے کے لیے اس کو بڑی قیمت بھی دینی پڑے گی۔ چھوٹی قیمت دے کر بڑی کامیابی حاصل کرنا اس دنیا میں ممکن نہیں۔ بڑی کامیابی کا مطلب ہے، دنیا سے زیادہ لینا۔ ۔ فطرت کا اصول ہے کہ جو شخص دنیا سے زیادہ لینا چاہتا ہو اس کو اپنی طرف سے بھی زیادہ دینا پڑے گا۔ اس دنیا میں کسی کو بھی دیے بغیر کچھ نہیں مل سکتا۔ کامیابی ایک دو طرفہ عمل ہے۔ وہ کسی کے لیے بھی یک طرفہ عمل نہیں۔ کامیابی کے دو درجے ہیں اور دونوں ہی درجے اہم ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس معاملہ میں باشعور ہو۔ اس کے بعد اس کو کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues

Printed page