Al-Risala · July 2005 · page 26

سب سے بڑی طاقت

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۲۶

سب سے بڑی طاقت

لوگ سمجھتے ہیں کہ سب سے بڑی طاقت جنگ جوئی کی طاقت ہے۔ یعنی لوگوں سے نہ دبنا، لوگوں سے سختی کے ساتھ معاملہ کرنا، اگر ضرورت پڑے تو لوگوں کے خلاف تشدد کا طریقہ استعمال کرنا۔ عام طور پر لوگ اس کو طاقت سمجھتے ہیں۔ مگر یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ اس قسم کا خیال فطرت کے نقشہ کے سراسر خلاف ہے۔

فطرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ سختی کے مقابلہ میں نرمی کا طریقہ زیادہ مؤثر ہے۔ نرمی کا طریقہ اختیار کر کے آپ انسان کو جیت لیتے ہیں۔ کسی کو زیر کرنے کے لیے سب سے زیادہ کارگر اصول یہ ہے کہ اس کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے جو اس کے ضمیر کو آپ کا ہمنوا بنا دے۔ یہ فائدہ صرف نرمی کے ذریعہ حاصل ہو سکتا ہے۔

اس مفہوم میں اپنے آپ کو طاقتور بنانے کا ایک آسان فارمولا یہ ہے کہ آپ غلطی کے اعتراف کی عادت ڈالیں۔ جب کسی کے ساتھ آپ کی تکرار ہو جائے اور آپ محسوس کریں کہ آپ غلطی پر تھے تو عزت کا خیال کیے بغیر فوراً یہ کہہ دیجیے کہ آپ صحیح ہیں اور میں غلط ہوں : You are right, I am wrong. یہ اعتراف دراصل خود اپنی تربیت ہے۔ اعتراف آدمی کے اندر تواضع کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ فطرت کے مطابق، بے اعترافی سرکشی کی غذا ہے اور اعتراف تواضع کی غذا۔ جو آدمی اعتراف نہ کرے وہ گویا اپنے اندر چھپی ہوئی انانیت اور سرکشی کو غذا دے رہا ہے۔ وہ اپنی انانیت اور سرکشی کو زیادہ پختہ کر رہا ہے۔ ایسا آدمی سب سے بڑی طاقت سے محروم ہو جائے گا۔

اس کے برعکس جو آدمی غلطی کے وقت فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کر لے وہ اپنے اندر تواضع کی پرورش کر رہا ہے۔ وہ اپنی تواضع کو غذا دے کر اس کو زیادہ بڑھا رہا ہے۔ وہ اپنے اندر تواضع کی صفت کو اور زیادہ مستحکم کر رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اپنے آپ کو طاقتور تر بنا رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues

Printed page