Al-Risala · July 2005 · page 27

مسائل اور ان کا حل

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۲۷

مسائل اور ان کا حل

انسان کے ساتھ جو مسائل پیش آتے ہیں ان کا بنیادی سبب اجتماعیت ہے۔ زمین پر اگر صرف ایک انسان موجود ہوتا تو یہاں کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا مگر انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ وہ اجتماعی طور پر زندگی گزارتا ہے۔ یہ اجتماع ہی تمام مسائل کی اصل جڑ ہے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ کا حل یہ ہے کہ فرد اور اجتماع کے درمیان موافقت تلاش کی جائے ۔ جب بھی کسی شخص کو کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو اس کا سبب ہمیشہ صرف ایک ہوتا ہے وہ یہ کہ آدمی صرف اپنی ذاتی خواہش کے مطابق مسئلہ کو حل کرنا چاہتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ وہ بہت سے دوسرے لوگوں کے درمیان ہے۔ وہ دوسرے لوگوں کو نظر انداز کر کے یک طرفہ خواہش کی بنیاد پر اپنا مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔ یہی انسانی مسائل کا اصل سبب ہے اور اسی سبب کی رعایت کر کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً آپ سڑک پر اپنی گاڑی دوڑا رہے ہیں۔ آپ کا نظریہ یہ ہے کہ سیدھے ہاتھ کی طرف چلنا زیادہ بہتر ہے۔ آپ اگر اس بے لچک نظریہ کو لے کر سڑک پر اپنی گاڑی دوڑانے لگیں تو آپ اپنی منزل کی بجائے صرف قبرستان تک پہنچیں گے۔ آپ کے عقیدہ کے مطابق ، دائیں طرف چلنا سیدھی طرف چلنا ہے اور بائیں طرف چلنا الٹی طرف چلنا ہے۔ یہ عقیدہ آپ کے نزدیک خواہ کتنا ہی درست ہو مگر یہ عقیدہ کامیاب سفر کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ آپ کو اس معاملہ میں اپنے اندر لچک پیدا کرنا ہوگا۔ سڑک پر چلتے ہوئے آپ کو ٹرافک رول کے اجتماعی قواعد کی پابندی کرنی ہوگی۔ اجتماعیت کے اندر کامیاب زندگی حاصل کرنے کا یہی واحد اصول ہے۔

اجتماعی زندگی ملی جلی زندگی کا نام ہے۔ کسی سماج کا ہر فرد اس اجتماعیت سے جڑا ہوا ہے۔ اسی اجتماعی تقاضہ کی رعایت کا نتیجہ کامیابی ہے اور اسی اجتماعی تقاضہ کی رعایت نہ کرنے کا نتیجہ ناکامی۔ مسئلہ بظاہر دوسرے شخص کی طرف سے پیدا ہوتا ہے۔ مگر اس کا حل ہمیشہ اپنی ذات میں ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو حقیقت پسند بنانا ہی کسی مسئلہ کا واحد یقینی حل ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues

Printed page