نشانِ منزل
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۳۹
سوال
اپنے علم میں اضافہ کی غرض سے میں نے اپنے ۲۱ جون ۲۰۰۴ء کے خط میں آپ کی مدد چاہی تھی۔ مگر آپ کا جواب مورخہ ۳ جولائی اپنی نوعیت میں میرے استفسار کا جواب نہیں ہے بلکہ محض میرے سوال کی تردید ہے۔ عالمانہ جواب باقی ہے۔
’’ ذوالکفل‘‘ نص ہی کے تو الفاظ ہیں۔ النبی الخاتم کا حوالہ اس لیے نہیں تھا کہ آپ میرے ہم خیال ہو جائیں بلکہ اس لیے تھا کہ براہِ راست اسے دیکھ لیں اور اس کی روشنی میں دوسرے علماء و مفسرین جن تک میری رسائی نہیں ہے، اور آپ کی یقیناً ہو سکتی ہے، ان کی تحقیق یا آراء کی روشنی میں مفصل رہنمائی فرمائیں۔ (محمد رضوان احمد، شیخ پورہ، بہار)
جواب
ذوالکفل کا ذکر قرآن میں دو سورتوں میں آیا ہے: سورہ جن اور سورہ الانبیاء۔ مگر قرآن یا حدیث میں ذوالکفل کے بارے میں مزید تفصیل مذکور نہیں۔ بعض مفسرین مثلاً مفسر آلوسی (صاحب روح المعانی) نے لکھا ہے کہ ذوالکفل سے مراد وہ بزرگ ہیں جن کا ذکر بائبل میں حزقی ایل پیغمبر کی حیثیت سے آیا ہے۔ مگر یہ محض قیاس ہے۔ اس کی کوئی بنیاد نہ تاریخ میں موجود ہے اور نہ قرآن و حدیث میں۔ خود بائبل میں حزقی ایل کا ذکر تو ہے مگر بائبل میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ حزقی ایل کا لقب ذوالکفل تھا۔ ذوالکفل کے لفظی معنی صاحب نصیب کے ہوتے ہیں۔
میرے نزدیک اس قسم کے مسائل میں زیادہ غور و خوض کرنا درست نہیں۔ غور و خوض مفید طور پر صرف اُن مسائل میں کیا جا سکتا ہے جن میں رائے قائم کرنے کے لیے کوئی متفق علیہ بنیاد موجود ہو۔ یہ بنیاد صرف دو ہو سکتی ہے، تاریخ یا وحی۔ مگر ذوالکفل کے بارہ میں رائے قائم کرنے کے لیے دونوں میں سے کوئی بھی بنیاد دستیاب نہیں۔ ایسی حالت میں اس سوال کو اُس خانہ میں ڈالنا چاہیے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ خدا نے کچھ باتوں کو علم کے باوجود ظاہر نہیں کیا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ ان معاملات میں بحث نہ کرے (وسکت عن اشیاء من غیر نسیان فلا تبحثوا عنها)۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues