Al-Risala · July 2005 · page 40

نشانِ منزل

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۴۰

ذوالکفل کے بارہ میں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اُن کا ذکر قرآن میں کس پہلو سے آیا ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ ذوالکفل اور دوسرے انبیاء کا ذکر کر کے قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ سب کے سب صبر کرنے والے لوگ تھے (الأنبياء ۸۵) ایسی حالت میں ہمیں اس سے یہ نصیحت لینا چاہیے کہ ذوالکفل اور دوسرے پیغمبروں کا کردار صابرانہ کردار تھا۔ ہمیں بھی اسی پیغمبرانہ اُسوہ کو لیتے ہوئے ہر معاملہ میں صبر کی روش اختیار کرنا چاہیے۔

سوال

سورہ المائدہ، آیت نمبر ۳۵ کا ترجمہ آپ کی تفسیر تذکیر القرآن میں اس طرح ہے: ”اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور اُس کا قرب تلاش کرو اور اُس کی راہ میں جدوجہد کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدہ ۳۵)

اس آیت میں ”وسیلہ“ عربی لفظ ہے جس کے معنیٰ یہاں کے علماء بزرگان دین کا وسیلہ لیتے ہیں۔ مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ کے یہاں کسی بادشاہ کے پاس حاضر ہونے کے لیے جس طرح مصاحب یا سفارشی کی ضرورت پڑتی ہے ایسا نہیں ہے۔ انسان اللہ پاک سے براہِ راست بلاکسی انسانی واسطہ کے قرب حاصل کر سکتا ہے۔ میں کہاں تک صحیح سمجھتا ہوں مطلع فرمائیں۔ (ایس۔ اے رضوی۔ حیدر آباد)

جواب

وسیلہ کے معنیٰ عربی زبان میں تقرب کے ہوتے ہیں۔ آیت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہاں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ خوفِ خدا اور دینی جدوجہد کے ذریعہ اللہ کی قربت تلاش کریں۔ آیت کے الفاظ اگر یہ ہوتے کہ و ابتغوا الوسیلۃ الیہ تو اس کا مطلب ہوتا کہ خدا کا تقرب تلاش کرو۔ لیکن آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ: وابتغوا الیہ الوسیلۃ، یعنی الیہ کا لفظ وسیلہ سے پہلے لایا گیا ہے۔ اس سے یہاں حصر کا مفہوم پیدا ہو گیا یعنی خدا کی ہی قربت تلاش کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں دوسروں کا تقرب تلاش کرنے کی نفی کی گئی ہے نہ کہ دوسروں

‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues

Printed page