Al-Risala · July 2005 · page 44

نشانِ منزل

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۴۴

منافق انسان سے ہے جو حکمت کی بات کرے مگر اسی کا عمل اس کے خلاف ہو۔ مولانا صاحب کیا آپ وضاحت کر کے ہم قارئین کو مطمئن کریں گے۔ (شاہ عمران حسن، دلاور پور، بہار) جواب (۱) یہ صحیح ہے کہ حدیث میں لو (اگر) کے استعمال سے منع کیا گیا ہے مگر یہ ممانعت مطلق معنوں میں نہیں ہے۔ چنانچہ حدیث اور اقوال صحابہ میں کثرت سے اس کا استعمال موجود ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لو کان موسیٰ حیا ما وسعه الا اتباعی۔ اسی طرح حضرت عمر فاروق نے فرمایا: لو لا علیّ لهلک عمر۔ لو کا استعمال کس موقع پر منع ہے اس کو آپ میرے مذکورہ مضمون میں پڑھ کر جان سکتے ہیں۔

(۲) رمضان کے مہینہ میں اگر سفر پیش آجائے تو روزہ قضا کیا جاسکتا ہے۔ یہ خود قرآن میں موجود ہے اور تمام علماء اور فقہاء کا اس پر اتفاق ہے۔ میرے سفر نامہ میں جس واقعہ کا ذکر ہے وہ حالت سفر کا واقعہ ہے، وہ حالت حضر کا واقعہ نہیں۔

(۳) ایک عربی مثل میں کہا گیا ہے کہ الناس أعداء ما جهلوا (لوگ اس چیز کے دشمن ہو جاتے ہیں جس سے وہ بے خبر ہیں)۔ میرا تجربہ ہے کہ اکثر لوگوں کی تنقیدیں اور الزامات اسی قول کا مصداق ہوتے ہیں۔ مجھے ان لوگوں پر سخت تعجب ہے جو علم تو حاصل نہیں کرتے البتہ اپنا یہ حق سمجھتے ہیں کہ وہ زبان و قلم سے بے مہابا تنقید کرتے رہیں۔ حالاں کہ اس قسم کی تنقید اخلاقی نقطہ نظر سے ایک غیر سنجیدہ فعل ہے اور اسلامی نقطہ نظر سے وہ سخت گناہ کی بات ہے۔

سوال

الرساله جون ۲۰۰۴ کے صفحہ ۲۸، سوال نمبر ۱۲ کے جواب میں آپ نے فرمایا’’مدا رس پر الزام لگانا غلط ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے کہ مدارس کے نظام میں عین وہی ذہن بنتا ہے جس کو جہادی ذہن کہا جاتا ہے‘‘۔ اور جواب کے آخری جملہ میں آپ نے تحریر فرمایا ہے ’’ایسی حالت میں مدارس کو اس معاملہ میں مکمل طور پر بے قصور نہیں کہا جا سکتا‘‘۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues

Printed page