Al-Risala · July 2005 · page 43

نشانِ منزل

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۴۳

سے، اور ہر ایک کے لیے خیر ہے۔ تم اس چیز کے حریص نہ بنوجوتم کو نفع دینے والی ہے اور اللہ سے مدد مانگو اور ہمت نہ ہارو۔ اور اگر تمہارے اوپر کوئی مصیبت آئے تو یہ نہ و کہ اگر میں نے ایسا اور ایسا کیا ہوتا تو بچ جاتا۔ بلکہ یہ کہو کہ اللہ کا مقدر تھا۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کیوں کہ ”اگر“ شیطان کے عمل کا دروازہ کھولتا ہے۔

مذکورہ حدیث کی روشنی میں آپ کا جملہ کیا ظاہر کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی مرضی سے انگریز ہندوستان آئے اور اللہ ہی کی مرضی سے ہندوستان کا نقشہ بدلا۔ پھر یہ کیوں کہا جائے کہ اگر ایسا ہوتا تو ایسا ہوتا۔ وہ بھی ایک عالم دین کو تو ہرگز ایسی بات نہ لکھنی چاہیے۔ پھر بھی آپ نے اتنی بڑی بات کیسے لکھ دی۔ وضاحت کریں۔

الرسالہ کے اسی شمارہ میں صفحہ ۲۳ پر آپ لکھتے ہیں کہ کہ ۲۴ نومبر ۲۰۰۳ کو دوپہر کے کھانے کے بعد حسب معمول کھانا شرکاء کانفرنس کے ساتھ کھایا۔ گویا کہ آپ نے رمضان المبارک کے مہینے میں بھی روزہ توڑ دیا اور آپ باضابطہ اس کا اعلان کر رہے ہیں کہ میں نے دن میں کھانا کھایا۔ یہ بھی واقعہ خلاف شرع ہے کہ آدمی اسلام کی نمائندگی کرنے کے لیے غیر مسلموں کے اجتماع میں جائے اور روزہ نہ رکھے۔ حالانکہ ایسے موقع پر روزہ رکھ کر غیر مسلم حضرات کو مزید متاثر کیا جا سکتا ہے کہ دیکھو ہر معاملہ میں اسلام ہی ہمارے لیے سب سے اونچی چیز ہے۔ جو کہ اپنی خواہشوں کی قربانی مانگتا ہے جو کہ ہر حالت میں اور ہر وقت اللہ کی مرضی پر عمل کرنے والا انسان بنا دیتا ہے۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ اس پر مزید اضافہ یہ کہ آپ لوگوں کو بتا بھی رہے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا سفر کی تمام سہولت کے باوجود بھی شریعت کی وہی بات لاگو ہوگی ”سفر میں قصر“۔ حالاں کہ شریعت کا اصول ہے کہ حالات کے تحت احکام بدل جاتے ہیں۔ کیا آپ اس کی وضاحت کریں گے کہ آپ نے اس دن روزہ کیوں نہیں رکھا۔

مذکورہ واقعہ پر خود آپ کی بات آپ ہی پر لاگو ہوگی جو کہ آپ نے ایک صاحب کے بارے میں الرسالہ کے اسی شمارہ صفحہ ۱۹ پر ایک حدیث کا ترجمہ کیا ہے کہ ”مجھے سب سے زیادہ اندیشہ اس

‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues

Printed page