Al-Risala · July 2005 · page 46

نشانِ منزل

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۴۶

تقریروں اور تحریروں میں کہا کہ اسلام کا اقدامی جہاد (بمعنٰی قتال) ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال مولانا تقی عثمانی کی کتاب فقہی مقالات ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنے والد مولانامفتی محمد شفیع صاحب کا یہ نظریہ بتایا ہے کہ اسلام کا اقدامی عمل جہاد (بمعنٰی قتال) ہے۔

میں اس نقطہ نظر کو غلط سمجھتا ہوں۔ میں نے اپنی تحریروں میں بار بار یہ واضح کیا ہے کہ اسلام کا اقدامی عمل پر امن دعوت ہے۔ جہاد (بمعنٰی قتال) ایک دفاعی کارروائی ہے جو استثنائی طور پر کبھی پیش آتی ہے۔ مزید یہ کہ اس دفاعی کارروائی کا حق صرف باضابطہ طور پر قائم شدہ حکومت کو ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کو ہرگز مسلح جہاد کی اجازت نہیں۔ جس شخص نے میری تحریروں کو پڑھا ہو اس کو میرا یہ نقطہ نظر پوری طرح معلوم ہوگا۔

البتہ اسی کے ساتھ میرا یہ خیال ہے اور اس کو میں نے بار بار اپنی تحریروں میں واضح کیا ہے کہ ہندوستان کے مدارس میں عملی عسکریت یا عملی ٹررزم کی نہ تو تربیت ہوتی ہے اور نہ یہ مدارس اس قسم کی کسی عملی تحریک کا اڈہ ہیں۔ البتہ بعض دوسرے ملکوں میں ایسے مدارس ضرور پائے جاتے ہیں جو عملی عسکریت میں ملوث ہیں۔ میں نے ان مدارس پر تنقید کی ہے اور یہ لکھا ہے کہ کسی بھی مدرسہ کے لیے یہ جائز نہیں کہ عملی طور پر وہ عسکریت کا نظام چلائے۔ بالفرض کسی ملک میں دفاعی جہاد کی ضرورت پیدا ہو جائے تب بھی عملی دفاع کی ذمہ داری صرف قائم شدہ حکومت کی ہوگی۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، کسی مدرسہ یا کسی غیر حکومتی تنظیم کے لیے ہرگز یہ جائز نہیں کہ وہ جہاد کے نام پر مسلح جدوجہد شروع کر دے۔ سوال میں آپ کا الرسالہ برابر پڑھتا ہوں اور آپ کی بیشتر کتابیں بھی میں نے پڑھی ہیں۔ آپ اکثر دوسروں کے اوپر تنقید کرتے ہیں۔ میری ادباً آپ سے گذارش ہے کہ آپ اپنی تحریروں میں تنقیدی باتوں کو نہ لائیں تو بہتر ہے۔ کئی لوگ آپ کے تعلق سے مشکوک ہوجاتے ہیں۔ اس طرح اُمت کا ایک بڑا طبقہ آپ کی دینی کتابوں سے دوری اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہ امت کا بہت بڑا خسارہ ہے (قاضی ظہور الدین ، اورنگ آباد)

‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues

Printed page