Al-Risala · July 2005 · page 47

نشانِ منزل

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۵، صفحہ ۴۷

جواب

تنقیدی اسلوب کے بارہ میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کون اُس کو پسند کرتا ہے اور کون اُس کو پسند نہیں کرتا۔ اس معاملہ میں اصل سوال یہ ہے کہ مسنون اسلوب کیا ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ تمام پیغمبر بشمول پیغمبر اسلام کا اُسلوب تنقیدی ہی تھا۔ اسی لیے اُن کے معاصرین اُن سے غصہ ہوتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ تنقیدی اُسلوب مسنون اُسلوب ہے اور غیر تنقیدی اُسلوب مبتدعانہ اُسلوب۔ تنقید کے معاملہ میں صرف ایک شرط عائد کی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کہ تنقید کو تنقیص یا تعییب نہیں ہونا چاہیے۔ تنقید کو تمام تر دلائل پر مبنی ہونا چاہیے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ تنقیدی اُسلوب ہی کے ذریعہ ذہنوں میں انقلاب آتا ہے۔ غیر تنقیدی اُسلوب کے ذریعہ کوئی حقیقی تبدیلی لانا ممکن نہیں۔ غیر تنقیدی اُسلوب عوام کی بھیڑ تو اکٹھا کر سکتا ہے مگر وہ سیرت وکردار میں انقلاب نہیں لاسکتا۔ سوال میں آپ کے کام کو جہاد سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے کام میں برکت عطا فرمائے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ چند شاگرد تیار کر دیتے تاکہ آپ کے بعد آپ کا یہ مشن جاری رہتا۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص آپ کے معیار پر پورا نہیں اُترتا ہوگا کیوں کہ آپ perfectionist ہیں۔ اگر آپ اس جانب توجہ فرمائیں تو بہت بہتر ہوگا۔ (ناصر مصطفیٰ، راولپنڈی، پاکستان) جواب ایک ایسا مشن جو انسانی فطرت پر مبنی ہو اور جس کے اندر یہ طاقت ہو کہ وہ ذہن کی تشکیل نو کر سکے، وہ اپنے آپ ایسے افراد پیدا کرتا ہے جو مشن کو جاری رکھنے کی ضمانت ہے۔ یہ ایک طاقتور مشن کی تصغیر ہے کہ اس کے بارے میں یہ سوال کیا جائے کہ وہ مشن کو زندہ رکھنے کے لیے افراد پیدا کر رہا ہے یا نہیں۔ اللہ کے فضل سے الرسالہ مشن کے تحت ساری دنیا میں ایسے افراد پیدا ہورہے ہیں جو اس مشن کو مستقبل میں جاری رکھنے کی ضمانت ہیں۔

ہمارے مشن کے تحت جو عام تقریری اور تحریری سرگرمیاں جاری ہیں ان کا مختصر تذکرہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2005 All issues

Printed page