اجتماعِ بھوپال
الرسالہ، اگست ۲۰۰۵
میں نے کہا کہ میرا مشن لوگوں کے درمیان دوئی کو مٹانا ہے اور دوئی کو مٹانا وسیع المشربی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا کہ صوفیاء کا مشن بھی دوئی کو مٹانا تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہی کیا کہ انہوں نے کئی لفظ دوسروں کی مذہبی روایات سے لیے اور ان کو اپنے یہاں رائج کر دیا۔ صوفیا کے اس لبرل مسلک کی وجہ سے ان کو استہزاء کا موضوع بنایا گیا۔ ایک اردو شاعر نے اسی صورت حال کو مبالغہ کے انداز میں اس طرح بیان کیا ہے:
میر کے دین و مذہب کی کیا پوچھ رہے ہو ان نے تو قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا اس کے بعد لوگوں کے مشورہ سے محمد خالد انصاری کو اس قافلہ کا امیر اور نغمہ صدیقی کو نائب امیر مقرر کیا گیا۔ اس سلسلہ میں میں نے امارت کے مسئلہ کی مختصر وضاحت کی۔
حدیث میں سفر کے بارہ میں یہ تعلیم دی گئی ہے: اذا خرج ثلاثة في سفر فليؤمروا احدهم (سنن ابی داؤد، کتاب الجهاد، باب فى القوم يسافرون يؤمرون احدهم)
یعنی جب تین آدمی سفر پر نکلیں تو وہ اپنے میں سے ایک شخص کو اپنا امیر بنالیں۔ یہ بے حداہم تعلیم ہے۔ اسلام میں ہر حال میں اجتماعیت مطلوب ہے۔ نماز میں اجتماعیت، سفر میں اجتماعیت، ادارہ میں اجتماعیت، حکومتی نظام میں اجتماعیت، وغیرہ۔
اس اجتماعیت کو قائم کرنے کی صورت یہ ہے کہ جب بھی کئی لوگ کسی کام میں اکٹھا ہوں تو وہ اپنے میں سے ایک شخص کو امیر بنالیں۔ اس امارت کو کامیابی کے ساتھ چلانے کی دو خاص شرطیں ہیں۔ امیر کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ امارت کو ایک ذمہ داری سمجھے، نہ کہ کوئی اعزاز۔ اسی طرح مامورین یا ماتحت افراد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اطاعت کے جذبہ کے تحت امیر کی ماتحتی قبول کرلیں ۔ امیر سے اگر انہیں کوئی اختلاف یا شکایت پیدا ہو تب بھی اس کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ اپنی اطاعت کو جاری رکھیں۔ امیر کی اطاعت کو کسی قسم کی مجبوری نہ سمجھیں بلکہ اس کو عبادت سمجھتے ہوئے خوش دلی کے ساتھ نبھائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues