اجتماعِ بھوپال
الرسالہ، اگست ۲۰۰۵
اس کے بعد دو گاڑیوں میں ہمارا قافلہ ائر پورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ اس موقع پر میں نے کہا کہ اس دنیا میں تمام چیزیں سفر کرتی ہیں۔ حیوانات بھی اور غیر حیوانات بھی۔ مگر یہ صرف انسان کی استثنائی صفت ہے کہ وہ سواری پر سفر کرتا ہے۔ انسان کے سوا اس وسیع کائنات پر کوئی دوسری چیز نہیں جو اپنے سفر کے لیے سواری کو استعمال کرے۔ انسان کے ساتھ خدا کا یہ معاملہ ایسا ہے کہ ہمارے سینہ کو شکر کے جذبات سے بھر جانا چاہیے۔ پھر میں نے کہا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ولقد كر منا بني آدم وحملناهم في البر والبحر (الاسراء (۷۰) یعنی اللہ نے انسان کو عزت دی اور اس کو خشکی اور تری میں سفر کرنے کے لیے سواریاں عطا کیں۔ اس آیت میں بظاہر اگر چہ صرف خشکی اور تری کی سواریوں کا ذکر ہے مگر تبعاً اس میں فضائی سواریاں بھی شامل ہیں۔ اسی طرح قرآن میں دعائیہ انداز میں آیا ہے : سبحان الذى سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين (الزخرف (۱۳)۔
قرآن کی یہ آیت سادہ معنوں میں صرف آداب سفر کو نہیں بتاتی بلکہ وہ بتاتی ہے کہ انسان کو کن ربانی احساسات کے ساتھ سفر کرنا چاہیے۔ قرآن و حدیث میں مختلف مواقع کے لیے جو دعائیں آئی ہیں وہ بطور آداب (etiquettes) نہیں ہیں بلکہ وہ روح دین کو بتاتی ہیں۔ مثلاً مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے کے وقت اللهم افتح لى ابواب رحمتك اور اللهم انى اسألك من فضلك کہنا صرف آداب مسجد نہیں ہے بلکہ یہ کلمات ان مواقع کے لیے ایمانی احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ وہ مومن کی قلبی حالت کا لفظی اظہار ہیں۔
ہمارا قافلہ دہلی کی سڑکوں سے گزرتا ہوا ائر پورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ میں نے محسوس کیا کہ قافلہ کا ہر ممبر اپنے اندر ایک نیا جوش محسوس کر رہا ہے۔ وہ ہر چیز کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے کہ وہ اس کو پہلی بار دیکھ رہا ہو۔ یہ انسان کی فطرت ہے۔ انسان کے ساتھ جب تبدیلی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو وہ اس کی شخصیت کو نئے تجربات سے دوچار کرتا ہے۔ پھر میں نے لوگوں کو بتایا کہ اسلام میں سفر کی خاص اہمیت ہے۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن میں سفر کو اسلامائز کیا گیا ہے۔ قرآن میں مومن مردوں کے لیے السائحون (التوبہ ۱۱۲) کا لفظ آیا ہے۔ اسی طرح
‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues