Al-Risala · August 2005 · page

History is a witness that man is in loss.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر اس کے خلاف شکایت اور احتجاج کا لفظی ہنگامہ کھڑا کرنا۔ میں نے بتایا کہ اس مسئلہ کا یقینی حل قرآن میں بتایا گیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ مسلمان اس معاملہ میں صبر اور تقویٰ کمی روش اختیار کریں، اس کے بعد دوسروں کی سازش انہیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی (آل عمران ۱۲۰) اسی اصول کو اختیار کرنے کا یہ نتیجہ ہے کہ اب ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا تقریباً خاتمہ ہو گیا ہے۔

میں نے مزید کہا کہ کسی کے لیے بھی مدرسہ کی تعلیم کافی نہیں ہو سکتی۔ رسمی تعلیم کسی کو معلومات دے سکتی ہے۔ مگر ایک اور چیز ہے جو مدرسہ کی تعلیم سے نہیں ملتی۔ وہ ہمیشہ ذاتی مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ منطقی تجزیہ (logical analysis) ہے۔ تجزیہ اور تحلیل کے ذریعہ آدمی حاصل شدہ معلومات کو با معنی بناتا ہے۔ تجزیہ کی صلاحیت کے بغیر معلومات کا فائدہ بہت کم ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ امیر شکیب ارسلان کی کتاب لماذا تاخر المسلمون و تقدم غيرهم کو میں نے مدرسہ کے زمانہ میں پڑھا تھا۔ مگر اس کتاب میں کیا کی ہے، اس کو میں اُس وقت دریافت نہ کر سکا۔ بہت دنوں کے بعد حال میں میں نے اس کتاب کو دوبارہ پڑھا۔ اب میں نے جانا کہ یہ کتاب اپنے شاندار ٹائٹل کے باوجود ایک سطحی کتاب ہے۔ اس کی زبان یقیناً بہت عمدہ ہے۔ مگر وہ حقیقی معنویت سے خالی ہے۔

حالیہ مطالعہ کے بعد میں نے غور کیا کہ اس کتاب میں مسلم اور غیر مسلم دونوں کے لیے تقدم اور تاخر کا ایک ہی معیار تسلیم کیا گیا ہے، اور وہ سیاسی اور مادی ہے۔ مصنف دونوں گروہ کو اسی کسوٹی پر جانچ رہے ہیں۔ حالاں کہ یہ مفروضہ غلط ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس قسم کے لوگ ایک طرف مسلمانوں کو خیر الامم اور افضل الامم بتاتے ہیں اور دوسری طرف وہ ان کو اُسی معیار سے جانچنے لگتے ہیں جو دوسری قوموں کے نزدیک ترقی اور تنزل کا معیار ہے۔ جب کہ دونوں کا معیار ایک نہیں ہو سکتا۔ الرسالہ مشن کے بارہ میں جو تفصیلات میں نے بتائیں اُس سے حاضرین بہت زیادہ متاثر ہوئے ۔ کئی لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہم کو یہ معلوم نہ تھا کہ الرسالہ مشن

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page