Al-Risala · August 2005 · page

History is a witness that man is in loss.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

صفحات میں نظر آتا ہے، ٹھیک وہی ذہن ان قدیم مضامین کو لکھتے وقت میرے اندر پایا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر قرآن کا مطلوب انسان میں ایک مضمون ”دعوت اسلامی کے کارکنوں کی ذمہ داریاں“ شامل ہے۔ یہ تحریر جماعت اسلامی کے ترجمان سہ روزہ دعوت کے شمارہ ۵ ستمبر ۱۹۵۵ میں شائع ہوئی تھی۔ کوئی آدمی اس مضمون کو پڑھے اور اس کے بعد وہ اس کے پچاس سال بعد چھپنے والے اِس مضمون کو پڑھے جو الرسالہ دسمبر ۲۰۰۴ میں اِس عنوان کے تحت چھپا ہے: ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا، قاری محسوس کرے گا کہ لکھنے والے کا ذہن پچاس سال بعد بھی وہی ہے جو کہ پچاس سال پہلے اُس کا تھا۔

یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میری تعلیم ایک ایسے عربی مدرسہ میں ہوئی جہاں پورا قرآن بطور نصاب پڑھایا جاتا تھا۔ اس بنا پر فطری طور پر ایسا ہوا کہ میرا ذہن ہر سوال کا جواب اور ہر مسئلہ کا حل قرآن سے اخذ کرنے لگا۔ میری ذہنی ساخت کے مطابق، کوئی اور چیز میرے فکر کا ماخذ نہ بن سکی۔ یہ عربی درسگاہ مدرسۃ الاصلاح تھی۔ اس مدرسہ کے بانی مولانا حمید الدین فراہی نے اس کا نصاب قرآن کی بنیاد پر وضع کیا تھا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ اس میں مولا نا حمید الدین فراہی کا تفسیری اصول شامل ہو گیا۔ مولا نا فراہی کا ماننا تھا کہ نظم، فہم قرآن کی کلید ہے۔ چنانچہ مدرسہ میں قرآن کی تعلیم ”نظام القرآن“ کے اصول پر دی جاتی تھی۔ ابتداء میں بھی اس سے متاثر ہوا۔ مگر بعد کو میرے ذہن نے اس کو رد کر دیا۔

اس تعلیم کے نتیجہ میں میرے اندر فکری طور پر قرآنی شاکلہ بنا۔ میں تمام معاملات کو قرآن کی روشنی میں دیکھنے لگا۔ ہر مسئلہ کا جواب قرآن میں تلاش کرنے لگا۔ مسلمانوں کے لیے راہ عمل کیا ہو، اس سوال کا جواب قرآن میں ڈھونڈھنے لگا۔ مدرسہ کی تعلیم کا یہ بلا شبہہ بہت بڑا فائدہ تھا جو مجھ کو اپنی ابتدائی عمر میں حاصل ہو گیا۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ 1947 کے بعد ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے تو مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ صرف ایک ہی بات لکھنا اور بولنا جانتے تھے اور وہ یہ کہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page