History is a witness that man is in loss.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۵
ساتھ مسلسل جڑے رہے۔ انہی میں سے ایک نام بھوپال کے ڈاکٹر محمد حمید اللہ ندوی کا ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں نے درسِ میںقرآن کا ایک کیسٹ سنا۔ اُس قرآن کی یہ آیت آئی: یا ایہا الذین آمنوا کونوا قوامین بالقسط (النساء ۱۳۵) انہوں نے کہا کہ اس کیسٹ میں قرآن کی اس آیت کی تشریح یہ کی گئی تھی کہ اے ایمان والو، تم قسط کو قائم و نافذ کرنے والے بنو۔ ساری دنیا میں قسط اور عدل کا نظام قائم کرو۔ اس مقصد کے لیے جنگ کی ضرورت پیش آئے تو تم کو جنگ کر کے ساری دنیا میں قسط کا نظام برپا کرنا چاہیے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا آیت کی یہ تشریح درست ہے۔
میں نے کہا کہ یہ ایک بے بنیاد تشریح ہے۔ اس کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔ قوامین بالقسط کا مطلب، خود قسط کی پیروی کرنا ہے، نہ کہ خارجی دنیا میں قسط کا نظام نافذ کرنا۔ اس قسم کی تفسیروں سے نہایت غلط ذہن بنتا ہے۔ قرآن کے مطالعہ یا درس کا اصل فائدہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر خود احتسابی کا مزاج بنے۔ وہ اصلاحِ خویش کے عمل میں مصروف ہوجائے۔ مگر مذکورہ قسم کے درسِ قرآن سے اُلٹی سوچ بنتی ہے۔ اس سے لوگوں کے اندر سیاسی اور خارجی ذہن بنتا ہے، نہ کہ داخلی ذہن، جو کہ اصلاً مطلوب ہے۔
اصل یہ ہے کہ عربی زبان میں دو لفظ الگ الگ ہیں، قائم اور مقیم۔ قائم کا لفظ لازم کا صیغہ ہے اور مقیم کا لفظ متعدی کا صیغہ۔ اس آیت میں قوام کا لفظ قائم کا مبالغہ ہے، وہ مقیم کا مبالغہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے ایمان والو، تم خوب خوب قسط پر قائم ہوجاؤ، اپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ قسط کی پیروی کرو۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم قسط کو زمین پر نافذ کرنے والے بنو۔ میرے نزدیک اس قسم کی تفسیر نحوی انحراف کا واقعہ ہے۔ قرآن میں اس قسم کا نحوی انحراف سخت جسارت کی بات ہے۔ میں نے اپنے مطالعہ میں اس قسم کا نحوی انحراف صرف اردو تفسیروں میں پایا ہے۔ قدیم عربی تفسیروں میں نہیں۔ البتہ سید قطب کی فی ظلال القرآن میں ایسے نحوی انحراف کی مثالیں موجود ہیں۔ کچھ لوگوں سے مسلم صحافت کے بارہ میں بات ہوئی۔ میں نے کہا کہ ۱۹۴۷ کے بعد مسلمانان
‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues