History is a witness that man is in loss.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۵
ہند کے درمیان جو ملّی صحافت پیدا ہوئی اس کو لکھنؤ کے ایک سابق روز نامہ قائد نے اپنے ایڈیٹوریل میں لکھا تھا کہ ہندوستان کی مسلم صحافت احتجاجی صحافت ہے (۱۹۷۶) بدقسمتی سے مسلم صحافت کا یہ انداز ابھی تک جاری ہے۔ حالاں کہ اب حالات اتنے زیادہ بدل چکے ہیں کہ اب ایسی صحافت کا ہندوستان میں کوئی مستقبل نہیں۔
میں نے اُسی زمانہ میں لکھا تھا کہ مسلمانوں کی احتجاجی صحافت صرف اُس وقت تک چلے گی جب تک مسلمان بے خبری کے دور میں جی رہے ہیں۔ میں نے لکھا تھا کہ انڈیا مسلمانوں کے لیے عظیم مواقع (opportunities) کا ملک ہے۔ مگر نام نہاد رہنماؤں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں وہ انڈیا کو اپنے لیے ایک پرابلم کنٹری سمجھ رہے ہیں۔ جس دن ایسا ہوگا کہ مسلمان انڈیا کو امکانات کے ملک کی حیثیت سے دریافت کریں گے اُسی دن شکایت اور احتجاج پر مبنی صحافت اور سیاست ختم ہو جائے گی۔ یہ دور اب انڈیا میں خاموشی کے ساتھ آچکا ہے۔ اب انڈیا کے مسلمان جان چکے ہیں کہ یہاں ان کے لیے ترقی کے بھرپور مواقع موجود ہیں، حتیٰ کہ اس سے بھی زیادہ جتنا کہ پاکستان اور دوسرے مسلم ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ اب انڈیا کا مسلمان تیزی سے تعلیم و ترقی کے راستہ پر سرگرم سفر ہوگیا ہے۔ اب اس ملک میں قدیم طرز کی احتجاجی سیاست کامیاب ہونے والی نہیں۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ نہایت ذہین تھے اور رسمی تعلیم کے علاوہ انہوں نے اسلامیات کا مطالعہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ اسلام کو فائنل مذہب بتاتے ہیں۔ مگر مجھے تو اسلام ایک دُشوار گذار جنگل معلوم ہوتا ہے جس سے گذر کر اپنی منزل تک پہنچنا سخت دشوار ہو۔
انہوں نے کہا کہ قرآن بلا شبہ ایک محفوظ کتاب ہے۔ مگر قرآن میں صرف اُصولی تعلیمات ہیں۔ اس بنا پر قرآن میں ایک سے زیادہ تعبیر (interpretation) کی گنجائش ہو گئی ہے۔ حدیث کے ذخیرہ میں ضعیف اور موضوع احادیث شامل ہو گئی ہیں۔ کتب صحاح بھی اس سے پاک نہیں۔ سیرت کو عملاً مغازی کی داستان بنا دیا گیا ہے۔ اسلامی تاریخ بھی سیاسی واقعات کی تاریخ بنی ہوئی ہے۔ فقہ بھی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues