History is a witness that man is in loss.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۵
تک کہ اللہ اپنا حکم بھیج دے اور اللہ نافرمان لوگوں کو راستہ نہیں دیتا (التوبہ ۲۴) اس آیت کے مطابق، انسانی تعلق کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے قلبی تعلق (loving relationship) اور دوسرا ہے عملی تعلق (working relationship) خدا کے نقشۂ تخلیق کے مطابق، دلی محبت کا تعلق صرف خالق کے ساتھ ہونا چاہیے۔ کوئی انسان خالق کے سوا کسی اور سے اگر دلی تعلق کرتا ہے تو وہ خالق کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔ ایسا آدمی خدا کی رحمت سے محروم کر دیا جائے گا۔ البتہ جہاں تک عملی تعلق یا ضرورت کے تحت تعلق کی بات ہے، وہ کسی بھی غیر خدا کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو کمیونٹی ورک، فیملی لائف، ملی خدمت، قومی تعلق، سوشل ورک وغیرہ اگر ضرورت کے دائرہ میں کئے جائیں تو وہ خدا کی شریعت میں جائز قرار پائیں گے مگر ایسے کام کی حیثیت سکینڈری ہوگی نہ کہ پرائمری۔ لیکن اگر انہی چیزوں کو سب کچھ بنا دیا جائے، آدمی کا ذہن انہی کاموں کے لیے سوچے، اس کا وقت اور پیسہ انہی کاموں پر خرچ ہو، وہ انہی باتوں کا چرچا کرے، وہ انہی باتوں کے لیے تحریکیں چلائے تو خدا کے نزدیک وہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ یہی وہ سرگرمیاں ہیں جن کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہ ان کو بہت اچھا کام سمجھتے ہیں مگر خدا کے یہاں وہ حبط اعمال کے خانہ میں ڈال دیے جائیں گے۔
۶۔ ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں ایک مقام پر پچھلے پیغمبروں کا ذکر کرتے ہوئے پیغمبر اسلام سے کہا گیا ہے کہ : اولئك الذين هدی الله فبهداهم اقتده (الانعام ۹۰)۔ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی، پس تم بھی ان کے طریقہ پر چلو۔ قرآن کی اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت کے اعتبار سے تمام پیغمبروں کا درجہ برابر ہے۔ ہر پیغمبر یکساں طور پر قابلِ اتباع ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مختلف پیغمبر مختلف حالات میں پیدا ہوئے ۔ ہر پیغمبر کی زندگی یہ بتاتی ہے کہ ان حالات میں دینِ خداوندی کی پیروی کا طریقہ کیا ہے۔ پیغمبروں کے درمیان فرق کرنا اس حکمتِ الہیہ کی تردید ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ جب بھی ایسا ہو کہ کسی پیغمبر کے زمانہ میں جو حالات تھے وہی حالات دوبارہ پیش آئیں تو بعد کے لوگوں کے لیے سابقہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues