Al-Risala · August 2005 · page

History is a witness that man is in loss.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

ہندو مقرر ہندوازم پر تقریر کرے اور پھر ایک پاکستانی مسلمان اُس سے کہے کہ آپ لوگ مسلمانوں کو کچھ کیوں سمجھتے ہیں اور ہندو مقرر اس کے جواب میں یہ کہے کہ ہمارے نزدیک جو شخص ہندو نہیں وہ مچھ ہے، آپ لوگ اپنا مذہب بدل کر ہندو بن جائیں تو ہم آپ کو مچھ نہیں کہیں گے۔ اگر پاکستان کا کوئی ہندو پبلک اسٹیج پر اس طرح بولے تو اس کو اُسی وقت قتل کر دیا جائے گا۔ اس کے برعکس ہندوستان کے مذکورہ مسلم مقرر بدستور امن کے ساتھ ہندوستان میں رہ رہے ہیں۔ ان کی تقریر کے ویڈیو کیسیت جگہ جگہ دیکھے اور سنے جا رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان مسلمانوں کے لیے کتنی بڑی نعمت ہے۔ تاہم مذکورہ قسم کا واقعہ ہندوستان کی آزادی کو مس یوز (misuse) کرنے کے ہم معنیٰ ہے۔ ایسا فعل شریعت کے خلاف بھی ہے اور عقل کے خلاف بھی۔

۴۔ ایک مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں کئی ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے انگریزی زبان میں اسلام پر کتا بیں لکھیں۔ مثلاً جسٹس امیر علی اور پروفیسر مجیب، وغیرہ۔ مگر ان لوگوں نے اسلام کی مرعوبانہ تشریح کی۔ وہ اسلام کو اس کی صحیح صورت میں پیش نہ کر سکے۔ مثلاً جسٹس امیر علی نے اپنی کتاب اسپرٹ آف اسلام میں تعدد ازواج کی توجیہہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قرآن کی اس تعلیم کو قدیم قبائلی رواج کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، کیوں کہ اس وقت تعدد ازواج کا عام رواج تھا اور اس کو بُرا نہیں مانا جاتا تھا۔ مگر یہ تو جیہہ درست نہیں۔ اس قسم کی توجیہات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام قدیم زمانہ کے لیے تھا۔ موجودہ زمانہ میں اسلام قابلِ عمل نہیں۔

۵۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل سوشل ورک اور کمیونٹی ورک وغیرہ کا بہت چرچا ہے مگر اسلامی نقطہ نظر کے مطابق یہ سوچ درست نہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : کہو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا قبیلہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو، یہ سب تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے کر آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page