History is a witness that man is in loss.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۵
یہ دونوں مفکرین بلاشبہ غلط سوچ کا شکار ہوئے۔ برٹرینڈ رسل نے الحاد کے لیے فلسفیانہ بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ خدا نے اگر کائنات کو بنایا ہے تو خدا کو کس نے بنایا۔ مگر سائنسی حقائق، خاص طور پر بگ بینگ کی دریافت، نے اس دلیل کو غیر سائنسی ثابت کر دیا۔ ان دریافتوں کے بعد اب انسان کے لیے بے خدا کائنات اور باخدا کائنات کے درمیان چوائس نہیں رہا ہے بلکہ اب جو چوائس ہے وہ باخدا کائنات یا غیر موجود کائنات میں ہے۔ جدید دریافتوں کے بعد ہم علمی طور پر بے خدا کائنات کا چوائس نہیں لے سکتے۔ اس لیے ہم مجبور ہیں کہ ہم باخدا کائنات کا انتخاب کریں: Now the choice is not between universe with God and universe without God. The real choice is between universe with God or no universe at all. Since we cannot opt for the second choice, we are compelled to opt for the first choice, that is universe with God. ۸۔ مذکورہ سوال کی مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ بیسویں صدی میں مذہبی نقطۂ نظر سے بڑا دماغ وہ تھا جس کو ڈاکٹر رادھا کرشنن کہا جاتا ہے۔ رادھا کرشنن نے شرک کو فلسفیانہ بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی۔ اُن کے افکار کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم جب خدا کی پرستش کے لیے بُت کو سامنے رکھتے ہیں تو وہ اس لیے نہیں ہوتا کہ ہم خود بُت کو خدا سمجھتے ہیں۔ بُت کو علامتی طور پر سامنے رکھنا صرف ذہنی ارتکاز(concentration) کے لیے ہوتا ہے۔
یہ توجیہہ بلاشبہ غیر علمی اور غیر منطقی ہے۔ یہ اس مفروضہ پر قائم ہے کہ انسان نہ دکھائی دینے والی حقیقت کو ذہنی طور پر فوکس نہیں کر سکتا۔ حالاں کہ واقعہ اس کے برعکس ہے۔ انسان کی سب سے بڑی صفت تصوراتی فکر (conceptual thinking) ہے۔ اسی صلاحیت کو استعمال کر کے انسان نے تمام بڑی بڑی حقیقتوں کو دریافت کیا ہے۔ حتیٰ کہ خود رادھا کرشنن نے اسی انسانی صلاحیت کو استعمال کر کے اپنا مذکورہ فلسفہ بنایا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ انسان اپنی اس صلاحیت کو خدا کی پرستش کے معاملہ میں استعمال نہ کر سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ بُت کو سامنے رکھ کر خدا کی پرستش کرنا خدا کی تصغیر ہے۔ یہ پرستش کی ایک کمتر
‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues