Al-Risala · August 2005 · page

History is a witness that man is in loss.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

صورت (reduced form) ہے۔ عبادت کے عمل کو کچھ رسمیات (rituals) کا درجہ دینا ہے۔ یہ ایک عجیب بات ہوگی کہ انسان دوسری اعلیٰ حقیقتوں کو تو اپنی تصوراتی تفکیر کے ذریعہ حاصل کرے۔ مگر خدا سے عبادتی تعلق کے لیے وہ اپنی تصوراتی فکر کی صلاحیت کو استعمال کرنے میں ناکام رہے۔ ۹۔ مذکورہ مسئلہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ ایک نہایت عجیب بات ہے کہ بیسویں صدی میں الحاد کو ایسے اعلیٰ ذہن ملے جنہوں نے الحاد کو فلسفیانہ بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح اس صدی میں ایسے اعلیٰ ذہن ملے جنہوں نے شرک کو فلسفیانہ بنیاد فراہم کرنے کے لیے غیر معمولی کوشش کی۔ یہی کام موجودہ زمانہ میں توحید کے نظریہ کے بارہ میں ہونا چاہیے۔ مگر میرے مطالعہ کے مطابق، کوئی بھی بڑا ذہن ایسا نہیں ابھرا جو توحید کے نظریہ کو فلسفیانہ بنیاد فراہم کرنے کا اہم کام انجام دے۔

یہ واقعہ ہے کہ بیسویں صدی میں توحید پرستوں کے حلقہ میں نہایت بڑے بڑے دماغ پیدا ہوئے۔ مثلاً سید جمال الدین افغانی، ڈاکٹر محمد اقبال، مولانا ابوالکلام آزاد، وغیرہ۔ مگر ان دماغوں نے اپنی اعلیٰ صلاحیت کو دوسرے غیر متعلق کاموں میں ضائع کیا۔ ان میں سے کوئی بھی یہ نہ کر سکا کہ وہ اپنی اعلیٰ صلاحیت کو برٹرینڈ رسل اور رادھا کرشنن کی سطح پر توحید کے نظریہ کو فلسفیانہ بنیاد فراہم کرنے کے لیے استعمال کرے۔

سید جمال الدین افغانی نہایت اعلیٰ صلاحیت کے آدمی تھے۔ مگر انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو بے فائدہ سیاست میں ضائع کر دیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد ایک عبقری انسان تھے۔ مگر وہ بھی اپنی اعلیٰ صلاحیت کو وقتی سیاست میں ضائع کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ دنیا سے چلے گئے۔

ڈاکٹر محمد اقبال نے اس موضوع پر کچھ خطبات دیے جن کا مجموعہ تشکیل جدید الہیات اسلامیہ کے نام سے چھپا۔ مگر کتاب کے (Reconstruction of Religious Thought in Islam) مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود اس معاملہ میں غلط فکری کا شکار ہو کر رہ گئے۔ ان کا کام یہ تھا کہ وہ توحید کے حق میں اعلیٰ فکری استدلال فراہم کریں۔ مگر انہوں نے توحید کو وحدت وجود (monism)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page