آخری خطاب
الرسالہ، اگست ۲۰۰۵
اور عالمی زبانوں میں شائع ہوئی ہیں۔ وہ جدید وسائلِ ابلاغ کے تحت ساری دنیا میں پھیل رہی ہیں۔ لمبے مطالعہ اور تجربہ کے بعد میں نے یہ سمجھا ہے کہ دعوتِ حق کا صحیح طریقہ وہ ہے جو انفرادی اپروچ کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ یعنی ایک ایک فرد کو بدلنا، ایک ایک ذہن کے اوپر ڈی کنڈیشننگ اور ری انجینئرنگ کا عمل کرنا۔ میرے مطالعہ کے مطابق ، یہی پیغمبروں کا طریقہ ہے۔ اس طریقہ کار کے دو مستند تاریخی نمونے ہیں۔ ایک کو مسیحی ماڈل اور دوسرے کو محمدی ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ کسی تحریک کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک ہے، عوام کو خطاب کرنا، اور دوسرا ہے، افراد کو خطاب کرنا۔ عوام سے خطاب کرنے کے لیے تحریک کو ایک عوامی اشو لینا پڑتا ہے، یعنی ایسا ایشو جس کے بارے میں پہلے سے عوام کے اندر شدید جذبات موجود ہوں۔ مثلاً برصغیر ہند میں ۱۹۴۷ سے پہلے مہاتما گاندھی کا بیرونی راج کے خلاف عوام کو پکارنا۔ یا محمد علی جناح کا ہندو خطرہ کے خلاف مسلمانوں کو موبیلائز کرنا۔
اس طرح کی عوامی تحریک میں یہ ہوتا ہے کہ بہت جلد لیڈر کے گرد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے۔ مگر ایسی کسی تحریک کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا۔ ایسی تحریک تخریب غیر کے لیے تو مفید ہوتی ہے مگر وہ تعمیر خویش کے لیے بالکل مفید نہیں ہوتی۔
تحریک کا دوسرا طریقہ وہ ہے جو انفرادی اپروچ کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس دوسرے طریقہ میں سارا فوکس فرد کی اصلاح پر دیا جاتا ہے۔ اس کا نشانہ افراد سے چل کر عوام تک پہنچنا ہوتا ہے، نہ کہ عوام کی بھیڑ اکٹھا کر کے افراد کو اپنے قبضہ میں لینا۔
کسی مشن کے لیے کام کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک وہ جس کو سیاسی ماڈل کہا جا سکتا ہے اور دوسرا وہ جس کو روحانی ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ دونوں ہی کا مائنس پوائنٹ اور پلس پوائنٹ ہے۔ سیاسی ماڈل میں کراؤڈ کو ایڈریس کیا جاتا ہے۔ اس میں ہمیشہ کسی ایسے منفی اشو کو لیا جاتا ہے جو خارجی ہو۔ کیوں کہ کوئی خارجی اشو ہی کراؤڈ کا اشو بن سکتا ہے۔ سیاسی ماڈل کا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ اس میں بہت جلد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے۔ لیکن سیاسی ماڈل کا مائنس پوائنٹ یہ ہے کہ اس میں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues