Al-Risala · August 2005 · page

آخری خطاب

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

درمیان ہوتی ہے۔ اس کے بعد جب وہ سسرال میں جاتی ہے تو وہاں اس کو ایسے لوگوں کے درمیان رہنا پڑتا ہے جن سے اس کا کوئی خونی رشتہ نہیں ہوتا۔ لڑ کی اگر اس فرق کو شعوری طور پر جان لے تو اس کی شادی ہر حال میں کامیاب رہے گی۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ ذمہ داری ماں باپ کی ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ایک کامیاب زندگی کا راز یہ نہیں ہے کہ گھر میں زیادہ آمدنی ہو اور ہر قسم کے ساز وسامان کا ڈھیر گھر کے اندر موجود ہو۔ بلکہ پر سکون زندگی کا راز یہ ہے کہ لوگ سادگی کی اہمیت کو جان لیں۔

ایک بات میں نے یہ کہی کہ کامیاب ازدواجی زندگی کا سب سے بڑا راز میرے نزدیک یہ ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے لیے فکری رفیق (intellectual partner) بن جائیں۔ آج کل ماں باپ یہ سوچتے ہیں کہ شادی ایسی ہو جس میں دونوں مل کر زیادہ آمدنی کر سکی تھیں۔ ۔ مثلاً عورت اور مرد دونوں ڈاکٹر ہوں۔ مگر میرے نزدیک یہ کامیاب شادی کی پہچان نہیں۔ کامیاب شادی وہ ہے جس میں عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے فکری شریک اور معاون بن جائیں۔ دونوں آپس میں تبادلۂ خیال کے ذریعہ اپنا فکری ارتقاء کرتے رہیں۔

آخری خطاب

میں ایک پیدائشی داعی ہوں۔ دعوت ہمیشہ سے میرا نشانہ رہا ہے۔ ۱۹۵۰ء میں جب کہ ابھی میں پختہ عمر کو نہیں پہنچا تھا، میں نے قرآن کے ایک لفظ کو لے کر، من انصاری إلی الله کے نام سے ایک ادارہ بنایا۔ پھر اس کام کے لیے ادارۂ اشاعتِ اسلام کا نام اختیار کیا۔ اُس وقت میں اپنی فیملی کے ساتھ اعظم گڑھ میں رہتا تھا۔ اُس زمانہ میں میں نے کئی چھوٹی کتابیں شائع کیں ۔ ان میں سے ایک کتاب کا نام یہ تھا: نئے عہد کے دروازہ پر (On the Threshold of a New Era)۔ میرا دعوتی سفر مختلف صورتوں میں مسلسل جاری رہا۔ یہاں تک کہ ۱۹۷۶ میں میں نے دہلی سے ماہنامہ الرسالہ جاری کیا اور اسلامک سنٹر قائم کر کے اس کے تحت دعوتی کتابوں کی اشاعت شروع کی۔ اب خدا کے فضل سے ان دعوتی کتابوں کی تعداد دو سو سے زیادہ ہو چکی ہے۔ یہ کتابیں مختلف ملکی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page