Al-Risala · August 2005 · page

آخری خطاب

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

اسپرٹ کمال درجے میں موجود ہوتی ہے۔ وہ گویا عارفین حق کا منتخب کردہ ہوتا ہے۔ ۳۔ اس کے بعد یہ ٹیم اس پیغام کو لے کر آگے بڑھتی ہے اور کمیونیکیشن کے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اُس کو تمام انسانوں تک پہنچادیتی ہے۔

سہ گانہ مرحلے کی یہی ترتیب فطری ترتیب ہے۔ مسیحی ماڈل اور محمدی ماڈل دونوں اسی کی تائید کرتے ہیں۔ حضرت مسیح کے زمانہ میں اسی ترتیب سے کام ہوا۔ اور پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں بھی یہی تاریخ دہرائی گئی۔ یعنی ایک فرد سے کام کا آغاز، اور پھر ایک ٹیم کا بننا، اس کے بعد دعوت کی عمومی توسیع۔ یہ ترتیب دعوتی کام کی فطری ترتیب ہے۔ اس لیے یہی ترتیب بعد کے زمانہ میں بھی اس کام کے لیے باقی رہے گی۔

الرسالة مشن کے مستقبل کے بارے میں میں اکثر سوچتا تھا۔ ۱۲ مئی ۲۰۰۵ کی صبح کو میں اس موضوع پر غور وفکر کر رہا تھا کہ اچانک مجھ پر یہ بات منکشف ہوئی کہ یہ دعوتی مشن بھی اسی فطری ترتیب کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ عمل فطرت کے زیر اثر پہلے سے جاری تھا۔ مگر مئی ۲۰۰۵ میں اس واقعہ کو میں نے شعوری طور پر دریافت کیا۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، میں نے اپنا دعوتی مشن ۱۹۵۰ء میں شروع کیا تھا، اس کے بعد وہ مختلف مراحل سے گذرتا رہا۔ تحریر وتقریر کے ایک مسلسل عمل کی صورت میں وہ برابر جاری رہا۔ یہاں تک کہ اس تحریک کی پشت پر ایک طاقت ور لٹریچر تیار ہوگیا۔ یہ لٹریچر اسلام کے تمام پہلوؤں کو عصری اسلوب میں بیان کرنے والا تھا۔

اس کے بعد تیسرا تاریخ ساز واقعہ یہ ہوا کہ جنوری ۲۰۰۱ء میں ہمارے دہلی کے دفتر میں اسپرچول کلاس کے نام سے ہفتہ وار اجتماع کا سلسلہ قائم ہوا۔ ان ہفتے وار اجتماعات کے دوران خدا کی غیر معمولی نصرت ظاہر ہوئی۔ چند سال کی مدت میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی ایک مضبوط ٹیم تیار ہوگئی۔ ان میں سے ہر شخص دعوتی اسپرٹ سے بھرا ہوا تھا اور عمل کا بے پناہ جذبہ اپنے اندر رکھتا تھا۔ ۲۰۰۵ میں یہ تاریخ یہاں تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہونا چاہیے اس کا عمل بھی خدا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page