آخری خطاب
الرسالہ، اگست ۲۰۰۵
کی خصوصی نصرت سے شروع ہو چکا ہے۔ یعنی دعوتِ حق کی اشاعت و توسیع۔ مجھے یقین ہے کہ یہ عمل رکنے والا نہیں۔ خدا کی نصرت اس بات کی ضامن ہے کہ یہ عمل رُ کے بغیر مسلسل جاری رہے یہاں تک کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔
مذکورہ حدیث پر غور کیجئے تو اس معاملہ کا ایک عملی پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ جب مذکورہ تقسیم کے مطابق، ایک ٹیم وجود میں آجائے تو اس کے بعد دعوت کی توسیع واشاعت ایک یقینی امر بن جاتی ہے۔ اس کے بعد ممکن طور پر صرف ایک چیز ہے جو اس عمل کی تکمیل میں رکاوٹ بن سکے، اور وہ حدیث کے الفاظ میں اختلاف کا معاملہ ہے۔ باہمی اختلاف ایسی بُری چیز ہے جو پورے نقشے کو تباہ کر سکتا ہے۔ ٹیم بن جانے کے بعد باہمی اختلاف کے سوا کوئی بھی چیز نہیں جو اس دعوتی سیلاب کو اس کی منزل تک پہنچنے سے روک سکے۔
یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ فکر کا اختلاف ایک فطری امر ہے۔ ہر انسانی مجموعے میں یہ ہوتا ہے کہ اس کے افراد کے درمیان فکری اختلافات ظہور میں آتے ہیں۔ اس لیے اصل مسئلہ فکری اختلاف کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اُس فن کو نہ جانتے ہوں، جس کو ’’ آرٹ آف ڈفرنس مینجمنٹ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ کسی بھی ٹیم میں رائے کا اختلاف پیدا ہونا لازمی ہے۔ البتہ ٹیم کے افراد کو ذہنی طور پر اتنا زیادہ پختہ ہونا چاہیے کہ وہ رائے کے اختلاف اور عملی ٹکراؤ میں فرق کرنا جانیں۔ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہو کر اپنا کام جاری رکھیں۔ رائے کا اختلاف ایک صحت مند علامت ہے۔ کیوں کہ وہ ڈائیلاگ کا سبب بنتا ہے اور ڈائیلاگ فکری ارتقاء کا ذریعہ ہے۔
الرسالة مشن کے تحت جو پر امن دعوت کا کام کرنا ہے وہ بنیادی طور پر اشاعتِ کتب کا کام ہے۔ یہ کام سب سے پہلے انگریزی کتابوں کی اشاعت سے ہوگا۔ کیوں کہ آج دنیا کی آبادی کا ٦٠ فیصد حصہ انگریزی زبان بولتا اور سمجھتا ہے۔ اس کے بعد حالات کے مطابق یہ کام دوسری زبانوں تک وسیع ہوگا۔ نظریاتی اشاعت کے اس کام کے بنیادی طور پر چند اجزاء ہیں:
‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues