Al-Risala · August 2005 · page

آخری خطاب

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

اندر لیے ہوئے ہو، جو سنجیدہ فیصلے کی اس حد پر پہنچا ہوا ہو جہاں پہنچ کر آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے مقصد سے پوری طرح وابستہ رہے۔ کوئی بھی خارجی واقعہ اس کو اس کے نشانہ سے ہٹانے والا ثابت نہ ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے کاگ میں اپنا کاگ ملائیں گے اور بالآخر یقینی کی منزل تک پہنچیں گے (صفحه ۲۰۴)۔

میری دعا ہے کہ الرسالہ مشن سے وابستہ ہونے والے لوگ اس کا مصداق ثابت ہوں۔

۱۴ مارچ کی صبح کو بھوپال سے دہلی کے لیے واپسی تھی۔ صبح کو نمازِ فجر کے بعد ایک نشست ہوئی جس میں میں نے لوگوں کو کچھ آخری نصیحتیں کیں۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ آپ میں سے ہر شخص کو ون مین، ٹومشن (one man, two mission) کی مثال بننا ہے۔ آپ میں سے ہرایک کو اپنے وقت اور طاقت کا ایک حصہ معاشی کاموں میں لگانا ہے اور اس کا دوسرا حصہ دعوتی مشن کے لیے وقف کرنا ہے۔ یہ دونوں کام یکساں طور پر ضروری ہیں اور ہرایک کو اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ دعوتی عمل کے لیے کوئی لگا بندھا پرو گرام نہیں ہوتا۔ دعوتی عمل دراصل ایسے افراد کا طالب ہے جن کے اندر دعوت کا گہرا جذ بہ پیدا ہو چکا ہو۔ یہ جذ بہ یا اسپرٹ اپنے آپ پرو گرام بنا لیتا ہے۔ قرآن پورے معنوں میں ایک دعوتی کتاب ہے۔ مگر قرآن میں کہیں بھی وہ چیز نہیں بتائی گئی ہے جس کو دعوتی پرو گرام کہا جاتا ہے۔ اس کے بجائے قرآن میں یہ کیا گیا ہے کہ مختلف انداز سے دعوت کی روح جگائی گئی۔ اسی دعوتی روح کا یہ نتیجہ تھا کہ دورِ اول کے اہل ایمان نے اتنا بڑا دعوتی عمل کیا کہ زمین کے ایک بڑے حصے میں اسلام پھیل گیا۔ دورِ اول میں جو عظیم دعوتی عمل ہوا اس کی پُشت پر کوئی لگا بندھا دعوتی پرو گرام نہ تھا بلکہ دعوتی اسپرٹ تھی جوان لوگوں کو مسلسل متحرک کیے ہوئے تھی۔ بھوپال کے اجتماعات میں کتابوں کا بک اسٹال رکھا گیا تھا۔ لوگوں نے کتابوں میں بہت دلچسپی لی۔ بیشتر کتابیں لوگوں نے خرید کر حاصل کیں اور کچھ کتابیں لوگوں کے درمیان تقسیم کر دی گئیں۔ بک اسٹال کا طریقہ بہت مفید طریقہ ہے۔ اس کو ہر اجتماع کے موقع پر استعمال کرنا چاہیے۔ بھوپال کے قیام کے دوران یہاں کے اخبارات اور ٹی وی کے مختلف چینل نے انٹرویو کیے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page