Al-Risala · August 2005 · page

آخری خطاب

الرسالہ، اگست ۲۰۰۵

انٹرویو کے موقع پر لوگوں کی کافی بھیڑ اکٹھی رہتی تھی۔ لوگوں کا تأثر یہ تھا کہ ہر انٹرویو کافی کاماورب رہا۔ یہ انٹرویو کے ساتھ اخباروں میں چھپے اور ٹی وی چینلوں میں دکھائے گئے۔ ۱۴ مارچ کی صبح کو ہم لوگ روانہ ہو کر بھوپال ائیر پورٹ پہنچے۔ یہاں کافی لوگ پہنچانے کے لیے آگئے تھے۔ اُن سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ایک صاحب نے آج کے اخبارات دکھائے۔ ان اخبارات میں میرے خطابات کی رپورٹیں شائع ہوئی تھیں۔ میں نے کہا کہ یہ زمانہ کیسا عجیب زمانہ ہے۔ قدیم زمانہ میں اگر آپ کوئی مشن لے کر اُٹھیں تو اس کی پبلسٹی آپ کو خود کرنی پڑتی تھی۔ آپ کے سوا کوئی دوسرا ادارہ اس کام کے لیے موجود نہ تھا۔ آج یہ حال ہے کہ آپ ایک مشن چلائیں تو آپ کو خود اُس کی پبلسٹی کرنے کی ضرورت نہیں۔ پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا آپ کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے ہر جگہ موجود رہتا ہے۔ آپ سے کوئی قیمت لیے بغیر وہ آپ کے پیغام کو عمومی طور پر پھیلانے میں لگ جاتا ہے۔ ایسا ادارہ پہلے زمانہ میں موجود نہ تھا۔

ائیر پورٹ کے مراحل سے گزر کر ہم لوگ جٹ ایروویز کے جہاز میں داخل ہوئے۔ جہاز ٹھیک وقت پر بھوپال سے روانہ ہوا۔ ڈاکٹر اقبال پردھان نے کہا کہ ہم جہاز کے اندر بھی دعوہ ورک کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے اور دوسرے ساتھیوں نے مسافروں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں انگریزی کے پمفلٹ مطالعہ کے لیے دیے۔ لوگوں نے نہایت دلچسپی کے ساتھ اس کو قبول کیا۔ جہاز کے اندر انگریزی روزنامہ ایشین ایج کا شمارہ ۱۴ مارچ ۲۰۰۵ دیکھا۔ اس میں ایک رپورٹ کے تحت بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اسلام آباد کی اسلامک یونیورسٹی میں کانووکیشن ایڈریس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کے خلاف غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے پاکستان کے معتدل طبقہ کا انتہا پسندانہ طاقتوں کے خلاف متحد ہو جانا چاہیے۔ اسلام کے خلاف غلط فہمیوں کو دور کرنا ضروری ہے تا کہ دنیا میں پائیدار امن قائم ہو سکے:

He urged moderates in Pakistan to unite against extremist forces to remove "misperceptions" about Islam in the world. Misperceptions about Islam need to be removed through the strategy of enlightened moderation for durable and lasting peace in the world. (p. 5)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2005 All issues

Printed page