Al-Risala · September 2005 · page

Transfer of seat from God to Man

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵

اب سوال یہ ہے کہ جب ہر شخص خدا میں عقیدہ رکھتا ہے تو اس کو وہ نتیجہ کیوں نہیں ملتا جو خدا میں عقیدہ رکھنے کی صورت میں ملنا چاہیے۔ خدا کو مانتے ہوئے بھی ہر انسان کا یہ حال ہے کہ وہ ربانی احساس (divine inspiration) سے محروم ہے۔ اس کو ذہنی سکون (peace of mind) حاصل نہیں۔ ہم خدا پر یقین رکھتے ہیں (We trust in God) کا بورڈ لگانے والے بھی حقیقی معنوں میں گاڈ میں ٹرسٹ کرنے کی نعمت سے محروم ہیں۔ لوگ خدا کو مانتے ہیں مگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ خدا کے ساتھ ان کا ربط (communion) قائم نہیں ہوتا۔ خدا کو ماننے کے باوجود لوگوں کی زندگیوں میں خدا کی رحمت (blessing) کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ خدا کے نام پر غیر خدا سے اپنے آپ کو وابستہ (associate) کئے رہتے ہیں۔ زبان سے وہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کو مانتے ہیں مگر عملاً وہ اپنے آپ کو کسی نہ کسی غیر خدا کے ساتھ وابستہ کیے ہوئے رہتے ہیں۔

کوئی کسی زندہ یا مردہ انسان کو خدا کی جگہ بٹھائے ہوئے ہے۔ کوئی سورج دیوتا (Sun god) اور چاند دیوتا (Moon god) جیسے خداؤں میں اٹکا ہوا ہے۔ کوئی ہیومنزم کے نام پر وہ کر رہا ہے جس کو عہدہ کا خدا سے انسان کی طرف منتقل ہونا کہا جاتا ہے:

Transfer of seat from God to Man

کوئی قانونِ فطرت (law of nature) کو خدا کا بدل سمجھے ہوئے ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ مانسٹک (monistic) تصورِ خدا کو لیے ہوئے ہیں۔ جس میں خدا ایک vague اسپَرٹ ہوتا ہے نہ کہ کوئی مستقل وجود جس سے ربط قائم کیا جاسکے، وغیرہ۔

اگر آپ اپنے ٹیلی فون پر کسی نمبر کو ڈائل کریں اور اتفاق سے غلط نمبر ڈائل ہو جائے تو دوسری طرف سے یہ آواز آئے گی کہ یہ نمبر موجود نہیں : (This number does not exist)۔ یہی آج لوگوں کا حال ہے۔ وہ خدا کے نام پر ایسی ہستیوں کو پکار رہے ہیں جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues

Printed page