Al-Risala · September 2005 · page

Transfer of seat from God to Man

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵

اس لیے ان کی ہر پکار کا جواب یہ آ رہا ہے کہ یہ خدا موجود نہیں (This god does not exist)۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ہر آدمی اس پورے معاملے کا از سر نو جائزہ لے۔ اگر وہ اس معاملے میں سنجیدہ ہوگا تو یقینی طور پر وہ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ اس کو اُس سسٹم آف تھاٹ کو دریافت کرنا ہے جس میں خدا کا تصور اپنی خالص صورت میں آدمی کو مل جائے۔ یہ ہر عورت اور مرد کا مسئلہ ہے۔ ہر عورت اور مرد اعتقادی طور پر کسی نہ کسی خدا کو اپنا خدا بنائے ہوئے ہے۔ مگر خدا کو ماننے کے جو نتائج ہیں وہ اس کو حاصل نہیں۔ ہر انسان اپنے ذاتی تجربہ کے تحت یہ محسوس کر سکتا ہے کہ اس کے لیے مسئلہ خدا پر عقیدہ نہ رکھنے (lack of belief in God) کا نہیں ہے بلکہ عقیدہ خدا کا نتیجہ نہ ملنے (lack of result of belief in God) کا مسئلہ ہے۔ یہ ایک ایسی یونیورسل حقیقت ہے جس کو ہر آدمی اپنے ذاتی تجربہ کے تحت جان سکتا ہے۔ عقیدہ اور نتیجہ عقیدہ کے درمیان اس فرق کا ممکن سبب صرف ایک ہی ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ اس نے خدا کے نام پر کسی غیر خدا پر اپنا عقیدہ بنا رکھا ہو۔ ایسی حالت میں فطری طور پر یہ ہوگا کہ عقیدہ کے باوجود آدمی کو عقیدہ کا نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔

بہت سے اسکالرس نے اس مسئلہ پر ریسرچ کی ہے اور اس کا جواب معلوم کیا ہے۔ انہی میں سے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بنگالی ڈاکٹرنِشی کانت چٹو پادھیائے ہیں۔ انہوں نے ۱۹۰۴ میں حیدر آباد دکن میں ایک مطبوعہ لکچر میں اپنا در یافت کردہ جواب بتایا تھا۔ وہ یہ کہ "اس معاملے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ ساتویں صدی عیسوی سے پہلے جو مذاہب دنیا میں آئے وہ اگر چہ اعتقادی طور پر ایک ہی خدا کو ماننے والے تھے مگر بعد کے زمانہ میں ان کا اوریجنل ٹیکسٹ محفوظ نہ رہ سکا۔ ہر مذہب کے ساتھ یہ ہوا کہ اس میں خدا کا تصور تبدیلی کا شکار ہو گیا اور خدا کے معاملہ میں ان مذاہب کی اور پینل تعلیم محفوظ نہ رہ سکی۔ ساتویں صدی کے رُبع اول میں اسلام کا ظہور ہوا۔ اسلام بھی اگر چہ دوسرے مذاہب کی طرح ایک مذہب تھا لیکن اسلام کی امتیازی صفت یہ ہے کہ اس کا اور پینل ٹیکسٹ پوری طرح محفوظ رہا۔ اس لیے اب بعد کی جنریشن کے لیے خدا کے درست عقیدہ کو جاننے کا معتبر ماخذ صرف اسلام رہ گیا ہے۔ جو

‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues

Printed page