Al-Risala · September 2005 · page

اسلام ہر زمانے کے لیے

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵

اسلام ہر زمانے کے لیے

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أنزل القرآن على سبعة أحرف، لكل آية منها ظهر وبطن ولكل حد مطلع (مشکوۃ المصابیح، رقم الحدیث ۲۳۸) یعنی قرآن سات حرفوں (لہجوں) پر نازل کیا گیا ہے۔ اور ہر حد کے لیے ایک مطلع ہے۔ اس حدیث میں ظہرِ آیت اور بطنِ آیت کے لفظوں میں جو بات کہی گئی ہے اس کا ایک پہلو غالباً یہ ہے کہ ظہرِ آیت سے مراد زمانی رعایت ہے اور بطنِ آیت سے مُراد ابدی رعایت۔ قرآن ایک خاص زمانے میں اُترا۔ لیکن جیسا کہ معلوم ہے، قرآن ہر زمانے کے لحاظ سے ہدایت کی کتاب ہے۔ اس بنا پر قرآن میں دونوں پہلوؤں کی رعایت ہے، زمانی پہلو کی بھی اور ابدی پہلو کی بھی۔ اس معاملہ کی ایک مثال یہاں درج کی جاتی ہے۔

قرآن کی سورہ نمبر ۸ میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: واعدوا لهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخيل ترهبون به عدو الله وعدوكم (الانفال ۶۰) یعنی اور ان کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے تیار رکھو قوت اور پلے ہوئے گھوڑے کہ اس سے تمہاری ہیبت رہے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر۔

اس آیت میں خیل (گھوڑے) کا لفظ زمانی رعایت کے اعتبار سے ہے اور اِرہاب (خوف دلانا) کا لفظ ابدی پہلو کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اعداد قوت‘‘ کا اصل معیار اس کے اندر اِرہاب کی صفت ہونا ہے۔ قدیم زمانہ میں جنگی گھوڑے کے اندر اِرہاب کی صفت ہوتی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ میں یہ صفت ارہاب دوسری چیزوں میں پیدا ہوگئی ہے۔ مثلاً سائنس اور ٹیکنالوجی۔ اس لیے موجودہ زمانہ میں اس آیت کی تعمیل، گھوڑوں کی فراہمی نہ ہوگی بلکہ یہ ہوگی کہ جو چیز آج کی قوت مُرَ ہَبَہ ہو اس کو حاصل کیا جائے۔

یہی دو طرفہ خصوصیت قرآن کی دوسری آیتوں میں پائی جاتی ہے۔ قرآن میں ایک اعتبار

‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues

Printed page