Al-Risala · September 2005 · page

اسلام ہر زمانے کے لیے

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵

سے ہم عصر اہلِ ایمان کے لیے رہنمائی تھی، دوسرے اعتبار سے بعد کے اہلِ ایمان بھی اُس کی آیتوں میں تدبّر کر کے اپنے لیے واضح رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اِسی بنا پر حدیث میں قرآن کے بارے میں آیا ہے کہ : لا تنقضی عجائبہ (الدارمی، فضائل القرآن، الترمذی، ثواب القرآن) اس معاملہ کی مزید وضاحت کے لیے یہاں چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔

۱۔ قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں ارشاد ہوا ہے : کم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة، بإذن الله (البقرہ ۲۴۹) یعنی کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں۔ مفسّرین نے اس آیت کی جو تشریح کی ہے اس کے اعتبار سے اس میں اُس فرق کو بتایا گیا ہے جو جنگ کے موقع پر مقاتلین کے درمیان ہوتا ہے۔ مثلاً اصحابِ طالوت اور اصحابِ بدر کے مقابلہ میں اُن کے اعداء کی تعداد۔

قرآن کی اِس آیت میں جس اُصول کو بتایا گیا ہے اس کا ایک عصری مفہوم بھی ہے۔ اس اعتبار سے یہ آیت جدید زمانہ تک کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ موجودہ زمانہ میں ایک نئی تبدیلی وقوع میں آئی ہے۔ پہلے زمانہ میں طاقت کا ذریعہ صرف ایک چیز ہوتی تھی اور وہ سیاسی اقتدار ہے۔ سیاسی طاقت کا انحصار فوجی طاقت پر ہوا کرتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں یہ صورتِ حال بدل گئی ہے۔ اب سیاسی اقتدار کے علاوہ ایک اور چیز ظہور میں آئی ہے جس کو ادارہ (institution) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں بے شمار قسم کے ادارے بنانا ممکن ہوگیا ہے۔ یہ غیر سیاسی ادارے اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ وہ خود سیاسی اقتدار کو اپنے زیرِ اثر کر لیتے ہیں۔

واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں اقلیتیں اداروں پر قابض ہو کر حکومت تک کو اپنے اثر میں لے لیتی ہیں۔ اقلیتی گروہ ان مواقع کو استعمال کر کے اکثریتی گروہ کے اوپر چھا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال امریکا میں مقیم یہودیوں کی ہے۔ وہ اپنے غیر سیاسی اداروں کی طاقت ہی کے ذریعہ وہاں کے سیاسی اقتدار کو مغلوب کیے ہوئے ہیں، نہ کہ معروف معنوں میں کسی سازش کے ذریعہ۔ ۲۔ قرآن کی سورہ نمبر ۹ میں اہلِ ایمان کے معاملہ کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے :

‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues

Printed page