Al-Risala · September 2005 · page

اسلام ہر زمانے کے لیے

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵

قل ھل تربصون بنا الّا احدی الحسنیین (التوبہ (۵۳) یعنی تم تم ہمارے لیے صرف دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کے منتظر ہو۔ اس آیت میں ایک اہم اصول بیان کیا گیا ہے۔ آیت کے ابتدائی مصداق کے اعتبار سے اس کا تعلق زمانی حالات سے ہے لیکن آیت کے وسیع انطباق کے لحاظ سے اس کا تعلق ابدی ہو جاتا ہے۔

قدیم مفسرین نے اس آیت میں دو بہتر انجام سے، غنیمت اور شہادت یا فتح اور شہادت مراد لیا ہے۔ اس تفسیر کے مطابق، یہ آیت جنگی حالات سے متعلق ہو جاتی ہے۔ مگر وسیع تر مفہوم کے اعتبار سے اس کا تعلق پُر امن حالات سے بھی ہے، فرد کے لیے بھی اور اجتماع کے لیے بھی۔ مثلاً ایک شخص انڈیا سے امریکا جاتا ہے۔ وہاں لمبی مدت تک کوشش کے باوجود اس کو اقامتی ویزا نہیں ملتا اور اس کو اپنے وطن واپس آنا پڑتا ہے۔ اس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اِحْدَی الْحُسْنَیِیْن کے اصول کے مطابق، ہم کو دو میں سے ایک بہتر چیز ملی۔ تم اگر چہ ویزا حاصل نہ کر سکے مگر تم کو اس دوران مغربی دنیا کا تجربہ ہوا، اور یہ تجربہ یقیناً ویزا سے کم نہیں۔

۳۔ قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں قدیم مکہ کے اہل ایمان کو ہجرت کا حکم دیا گیا تھا۔ فرشتوں کی زبان سے یہ جملہ نقل کیا گیا ہے: الم تکن أرض الله واسعة فتهاجروا فيها (النساء ۹۷) یعنی کیا خدا کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم وطن چھوڑ کر وہاں چلے جاتے۔ ہجرت کا یہ حکم قرآن کی دوسری سورتوں میں بھی مختلف الفاظ میں آیا ہے۔

دورِ اول میں جب یہ آیتیں اتریں اُس وقت ہجرت سے مراد ہجرتِ مکانی ہوتا تھا۔ چنانچہ بہت سے لوگوں نے اس حکم پر عمل کیا۔ مگر موجودہ زمانہ میں ہجرتِ مکانی کا طریقہ زیادہ قابلِ عمل نہیں رہا ہے۔ تاہم موجودہ زمانہ میں بھی یہ اصول اپنی حقیقت کے اعتبار سے بدستور باقی ہے۔ مثلاً کسی ملک کے مسلمان اگر سیاسی سرگرمیوں کی بنا پر وہاں کی حکومت کے عتاب کا شکار ہو رہے ہیں تو اُن سے یہ کہا جائے گا کہ تم اس عتاب کا شکار صرف اس لیے ہو رہے ہو کہ تم نے اپنے ملک کی حکومت سے متشددانہ قسم کا سیاسی ٹکراؤ جاری کر رکھا ہے۔ تم سیاست کا میدان چھوڑ کر غیر سیاسی میدان میں آجاؤ اور پر امن

‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues

Printed page