Al-Risala · September 2005 · page

عورت اور مرد کے دماغ کا فرق

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵

عورت اور مرد کے دماغ کا یہ تخلیقی فرق بے حد اہم ہے۔ اس کا یہ فائدہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہوئے زیادہ بہتر طور پر زندگی گزاریں۔ وہ ایک دوسرے کی کمیوں کی تلافی کرتے ہوئے زندگی کو زیادہ مفید اور بامعنی بنا سکیں۔

اس ریسرچ سے اس بات کا بھی جواب ملتا ہے کہ اسلام میں عورت اور مرد کی گواہی کے درمیان فرق کیوں رکھا گیا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور تم اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کو گواہ کر لو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں، ان لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو، تاکہ اگر ایک عورت بھول جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دلادے (البقرہ ۲۸۲) مذکورہ دریافت کے مطابق ، عورت اور مرد کے درمیان اس فرق کا سبب یہ ہے کہ دونوں کے دماغ کی بناوٹ میں فرق ہے۔ مرد کا دماغ سنگل فوکس مائنڈ (uni-focal mind) ہے۔ اس کے مقابلہ میں عورت کا دماغ پیدائشی طور پر ملٹی فوکس مائنڈ (multi focal mind) ہے۔ اس فرق کی بنا پر ہمیشہ یہ امکان رہے گا کہ جس واقعہ کی گواہی دینا ہے اُس واقعہ کو مرد کے دماغ نے اپنی پوری صورت میں رجسٹر کیا ہو۔ جب کہ عورت کے معاملہ میں یہ امکان ہے کہ مختلف فطری بناوٹ کی بنا پر کسی ایک عورت کے دماغ نے واقعہ کو اس کے تمام اجزاء کے ساتھ رجسٹر نہ کیا ہو۔ ایسی حالت میں دو عورتوں کو گواہ بنانے میں یہ حکمت ہے کہ اگر واقعہ کا ایک پہلو ایک عورت سے چھوٹ جائے تو دوسری عورت اس کی تلافی کر دے۔

یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی مذکورہ بالا آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق، قرآن کا یہ حکم صرف ایک حکم نہیں رہتا بلکہ وہ خود فطرت کا ایک اصول بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues

Printed page