عورت اور مرد کے دماغ کا فرق
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵
عورت اور مرد کے دماغ کا فرق
موجودہ زمانہ میں انسانی دماغ پر بہت زیادہ ریسرچ کی گئی ہے اور نئے نئے حقائق دریافت ہوئے ہیں۔ اس موضوع پر امریکی ماہرین کی ایک ٹیم کی سروے رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس ریسرچ میں برین اسکیننگ کی جدید ٹیکنیک (FMRI) استعمال کی گئی تھی۔ اس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ جب ان کو کچھ بتایا جائے یا پڑھ کر سنایا جائے تو ان کے دماغ میں کس قسم کی اعصابی حرکات ہوتی ہیں: Using a brain scanning technique called Functional Magnetic Resonance Imaging (FMRI) the work does highlight the differences in natural activity between men and women listening to something read aloud. اس ریسرچ کے ذریعہ یہ معلوم ہوا ہے کہ مرد اپنے دماغ کے صرف ایک جانب سے سنتے ہیں جبکہ عورتیں اپنے دماغ کے دونوں سمت کو استعمال کرتی ہیں:
Research released Tuesday shows that men listen with one side of their brains, while women use both sides. اس ریسرچ میں ۱۰ تندرست مرد اور ۱۰ تندرست عورتوں پر تجربات کئے گئے۔ اس ریسرچ سے معلوم ہوا کہ مرد اور عورت کے دماغ یقینی طور پر یکساں نہیں ہیں: They are difinitely not the same - in size, sense or sensibilities (p.1) Loss Angeles Times, Loss Angeles, Nov. 29, 2000 یہ ریسرچ بتاتی ہے کہ عورت اور مرد کے اس دماغی فرق کی بنا پر دونوں کے دیکھنے اور سننے میں فرق ہو جاتا ہے۔ مرد اپنے دماغی بناوٹ کی بنا پر ایسا کرتا ہے کہ وہ کسی ایک چیز پر فوکس کر سکے، وہ کسی ایک چیز کو زیادہ مرگز انداز میں دیکھے۔ اس کے مقابلہ میں عورت کی دماغی بناوٹ کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کا فوکس پھیل جاتا ہے۔ وہ بیک وقت مختلف چیزوں کو دیکھتی اور سنتی ہے۔ مرد کا مرکز توجہ ایک چیز ہوتی ہے اور عورت کا مرکز توجہ کئی چیزیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues