اجتماعی معاملات
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۵
یہ اصول پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت سے ثابت ہوتا ہے۔ آپ کے زمانہ میں یمن کے علاقہ میں ایک مُدّعیِ نبوت ظاہر ہوا۔ اس کو تاریخ کی کتابوں میں مُسیلمہ کذّاب کہا جاتا ہے۔ اُس نے اپنی طرف سے دورکنی وفد مدینہ بھیجا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیغام دیا کہ آپ میری نبوت کو تسلیم کریں۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ عالمی رواج نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہیں کیے جاتے تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا (لولا ان الرسل لا تقتل لضربت اعناقكما) پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے یہ اصول مستنبط ہوتا ہے کہ کسی اجتماعی معاملہ میں جو بین اقوام اصول ہو، وہی اصول اسلامی ریاست میں بھی تسلیم کر لیا جائے گا۔ اس طرح کے معاملات میں اسلام میں بھی اُسی معیار کو مان لیا جائے گا جو کسی زمانہ میں بین اقوام طور پر مُسَلَّمہ معیار بن چکا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ بین اقوامی معاملات میں اس کے سوا کوئی اور قابلِ عمل اصول نہیں۔ مسلمان دنیا میں اپنا کوئی علیحدہ سیاسی جزیرہ نہیں بنا سکتے۔ بین اقوامی زندگی کا نظام باہمی احترام اور باہمی رضامندی کے اصول پر چلتا ہے۔ یہ اصول جس طرح دوسری قوموں کے لیے قابل قبول ہے اُسی طرح وہ اسلام کے لیے بھی قابلِ قبول ہے۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ سنت کا تعلق محدود طور پر سفیر کے معاملہ سے متعلق نہیں ہے بلکہ وہ ایک عمومی اصول ہے۔ اس سنت میں ایک ایسی رہنمائی ملتی ہے جس کی روشنی میں تمام بین اقوامی معاملات کو قائم کیا جاسکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2005 All issues